خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
حلال شعبے کی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ضروری ہے، خالد مگسیپاکستان نے سری لنکا کو تین وکٹوں سے شکست دے کر سہ فریقی سیریز جیت لیچین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران مودی حکومت کی دفاعی پالیسی کو عالمی تنقید کا سامناافغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت جاریپاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، ڈی جی آئی ایس پی آردانش اسکولوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہوگا، وزیراعظماینٹی کرپشن پنجاب نے سی ای او ہیلتھ جھنگ ڈاکٹر محمد یونس منیر کو مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں 5 نومبر کو طلب کر لیا، شیخوپورہ ہسپتال میں تعیناتی کے دوران سرکاری فنڈز میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات، تحریری جواب طلبجھنگ میں جرائم کے خلاف نمایاں کارکردگی پر ڈی پی او ساجد حسین کی جانب سے سی سی ڈی ٹیم کی حوصلہ افزائی، ڈی ایس پی بابر نواز ہندل کو لیٹر آف اپریسی ایشن جاری، انسپکٹر اظہر خان سمیت افسران و اہلکاروں میں تعریفی سرٹیفکیٹس اور نقد انعامات تقسیم
جھنگ

بی ایس کمپیوٹر سائنس کی طالبات کے پریکٹیکل امتحانات میں مبینہ تاخیر، طلبہ کا قیمتی وقت اور والدین کا سرمایہ ضائع ہونے کا خدشہ

( وحید ختر چوہدری سے)یونیورسٹی آف جھنگ میں بی ایس کمپیوٹر سائنس کی طالبات کو عملی تربیت اور پریکٹیکل نہ کروائے جانے کے معاملے پر طلبہ اور والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔…

بی ایس کمپیوٹر سائنس کی طالبات کے پریکٹیکل امتحانات میں مبینہ تاخیر، طلبہ کا قیمتی وقت اور والدین کا سرمایہ ضائع ہونے کا خدشہ

( وحید ختر چوہدری سے)یونیورسٹی آف جھنگ میں بی ایس کمپیوٹر سائنس کی طالبات کو عملی تربیت اور پریکٹیکل نہ کروائے جانے کے معاملے پر طلبہ اور والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ عملی تعلیم سے متعلق مسائل کے باعث ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور انہیں اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بی ایس کمپیوٹر سائنس کی طالبات کو مبینہ طور پر پریکٹیکل کی مناسب سہولت اور عملی تربیت فراہم نہیں کی جا رہی، جس کے باعث طالبات کو اپنی تعلیم مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ کمپیوٹر سائنس جیسے شعبے میں عملی تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پریکٹیکل کے بغیر کورس کی تکمیل اور مطلوبہ تعلیمی اہداف کا حصول متاثر ہوسکتا ہے۔

والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے بھاری اخراجات برداشت کر رہے ہیں، تاہم اگر تعلیمی معاملات بروقت حل نہ کیے گئے تو نہ صرف طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ والدین کی جانب سے تعلیم پر خرچ کیا جانے والا سرمایہ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق بی ایس آئی ٹی اور بی ایس کمپیوٹر سائنس میں رواں سال داخلوں کے حوالے سے بھی صورتحال واضح نہ ہونے کے باعث طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث ان پروگراموں میں داخلہ لینے کے خواہشمند طلبہ اور ان کے والدین اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

متاثرہ طالبات اور ان کے والدین نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور گورنر پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی آف جھنگ میں بی ایس کمپیوٹر سائنس سمیت متعلقہ پروگراموں کے تعلیمی و عملی معاملات کا فوری نوٹس لیا جائے، طلبہ کو درپیش مسائل کا شفاف اور مستقل حل نکالا جائے اور اگر کسی انتظامی غفلت یا کوتاہی کے باعث طلبہ کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے تو ذمہ داران کا تعین کرکے قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔

والدین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے بچوں کے تعلیمی مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے اور پریکٹیکل سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

واضح رہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں