پاکستان عالمی صنفی مساوات کے پیمانوں میں سب سے نچلے درجے پر ہے اور ملک میں خواتین کے خلاف جسمانی، جنسی اور آن لائن تشدد کے واقعات تشویشناک رفتار سے سامنے آ رہے ہیں۔ قانون سازی کئی سطحوں پر موجود ہے، لیکن بین الاقوامی ادارے اور مقامی این جی اوز نفاذ، شواہد کی فراہمی اور متاثرین تک رسائی میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے ۔یہ حقیقت تب عیاں ہوئی جب برطانوی ہائی کمیشن نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک مقابلے کا انعقاد کیا ۔ اس مقابلے میں پاکستان کے بڑے میڈیا گروپس میں کام کرنے والوں صحافیوں نے حصہ لیا
صنفی بنیاد پر تشدد ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں رپورٹ ہو رہا ہے۔سماجی دباؤ، قانونی پیچیدگیوں اور بدنامی کے خوف کے باعث صنفی بنیاد پر تشدد کے متعدد متاثرین سامنے نہیں آ پاتے۔
پاکستان میں بھیک مانگنا اب ایک سماجی مجبوری نہیں بلکہ ایک منظم ’بلیک انڈسٹری‘ بن چکا ہے، جس کے تانے بانے وائٹ کالر کرائم اور بین الاقوامی انسانی سمگلنگ سے جا ملتے ہیں۔ 25 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں تقریباً 4 کروڑ افراد اس قبیح دھندے سے جڑے ہیں، جو روزانہ اربوں روپے کا کالا دھن پیدا کر رہے ہیں۔
پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے حالیہ برسوں میں متعدد اعلانات اور اقدامات سامنے آئے ہیں۔تاہم جب ان اقدامات کے عملی نتائج کا جائزہ لیا جائے تو کئی سنجیدہ سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی کسی سرسبز جنگل کے بیچ کھڑے ہو کر درختوں کی سرگوشیاں سنی ہیں؟ کبھی صبحِ صادق کے وقت پرندوں کی چہچہاہٹ میں قدرت کا نغمہ محسوس کیا ہے؟ اگر ہاں، تو پھر آپ نے زمین کی دھڑکن کو ضرور محسوس کیا ہوگا۔
ہندوکش ہمالیہ (HKH) کا خطہ، جسے کرہ ارض کا "تیسرا قطب" اور "ایشیا کا واٹر ٹاور" کہا جاتا ہے، کرہ ہوائی میں بڑھتے ہوئے حرارتی اثرات کے باعث غیر معمولی ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے
کیا وجہ ہے کہ معصوم بچوں کےساتھ جنسی جرائم میں ملوث ملزمان پکڑے جاتے ہیں بسا اوقات سزا بھی ہوجاتی ہے لیکن پھربھی ایسے جرائم کی شرح کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی جارہی ہے؟
کبھی کسی ایسے بوڑھے باپ کے پاس بیٹھ کر دیکھیے جس کے گھر میں کبھی بچوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں، مگر آج وہ شام ڈھلے دروازے کی طرف یوں دیکھتا ہے جیسے کسی اپنوں کے قدموں کی آہٹ کا منتظر ہو