ہندوکش ہمالیہ (HKH) کا خطہ، جسے کرہ ارض کا “تیسرا قطب” اور “ایشیا کا واٹر ٹاور” کہا جاتا ہے، کرہ ہوائی میں بڑھتے ہوئے حرارتی اثرات کے باعث غیر معمولی ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے
نیپال اور تبت میں سیلاب: سائنسی وجوہات، قبل از وقت پیشگوئی اور تباہی کا جامع تحقیقی جائزہ
ہندوکش ہمالیہ (HKH) کا خطہ، جسے کرہ ارض کا “تیسرا قطب” اور “ایشیا کا واٹر ٹاور” کہا جاتا ہے، کرہ ہوائی میں بڑھتے ہوئے حرارتی اثرات کے باعث غیر معمولی ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ اگست اور ستمبر 2024 کے دوران نپال اور چین کے زیر انتظام تبت کے سرحدی علاقوں میں نپال اور تبت میں سیلاب کی صورتحال، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) اور بڑے پیمانے پر زمین کھسکنے کے حوادث نے اس حساس پہاڑی خطے کی نازک صورتحال کو مزید آشکار کیا ہے۔
سپٹمبر کے آخری ہفتے میں ریکارڈ توڑ مون سون بارشوں نے کاٹھمنڈو وادی سمیت مشرقی اور وسطی نپال کو شدید متاثر کیا، جبکہ اس سے قبل اگست میں سولومبکھو کے علاقے میں واقع تھامے وادی اور نپال تبت سرحد پر بھوٹے کوشی کے طاس میں گلیشیائی و چٹانی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تحقیقی رپورٹ ان قدرتی حوادث کے پس منظر، موسمیاتی و گلیشیائی حرکیات، قبل از وقت اطلاع دینے والے نظاموں کی کارکردگی اور جانی و مالی نقصانات کے جائزوں کا احاطہ کرتی ہے۔
نیپال اور تبت میں سیلاب کی سائنسی وجوہات اور گلیشیائی حرکیات
نپال اور تبت میں سیلاب کے یہ حوادث محض مقامی موسمیاتی تبدیلیاں نہیں تھے، بلکہ یہ کرہ ہوائی (Atmosphere)، کرہ یخ (Cryosphere) اور زمینی ساخت (Geomorphology) کے باہمی تعامل کا نتیجہ تھے۔ ان واقعات کا سائنسی تجزیہ تین بنیادی مظاہر کی نشاندہی کرتا ہے۔
1. شدید مون سون بارشیں اور خلیج بنگال کا کم دہاؤ
ستمبر 2024 کے آخری ایام (26 تا 28 ستمبر) کے دوران نپال کو دہائیوں کے شدید ترین بارش کے اسپیل کا سامنا کرنا پڑا، جسے محکمہ موسمیات نپال (DHM) نے 1970 کے بعد ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ بارش قرار دیا۔ اس غیر معمولی بارش کا بنیادی سبب خلیج بنگال میں بننے والا ہوائی دباؤ کا ایک شدید کم دہاؤ (Low-Pressure System) تھا، جو نپال اور اس سے ملحقہ بھارتی علاقوں پر غیر معمولی مدت تک برقرار رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ، مون سون ٹرف (Monsoon Trough) کا معمول سے زیادہ شمال کی جانب منتقلی نے ہمالیائی سلسلوں پر نم ہواؤں کے جمع ہونے کی شرح میں اضافہ کر دیا۔
ان موسمیاتی عوامل کی شدت میں اضافہ اس بنا پر بھی ہوا کہ کاٹھمنڈو کی زمین رواں مون سون کے دوران پہلے ہی معمول سے 25 فیصد زیادہ بارش جذب کر کے مکمل طور پر لبریز (Saturated) ہو چکی تھی۔ زمین کی جذب کرنے کی صلاحیت ختم ہونے کے باعث 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر بارش کا پورا پانی فوراً سطح پر بہہ نکلا۔
- کاٹھمنڈو وادی: 240 ملی میٹر سے 382 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی (کمل تار میں 381.2 ملی میٹر اور گوداوری میں 346.6 ملی میٹر)۔
- باگمتی ندی: کھوکنا کے مقام پر پانی کی سطح خطرے کے نشان سے 2.16 میٹر بلند ہو کر 6.16 میٹر تک پہنچ گئی۔
- دیگر ندی نالے: نارائنی ندی دیو گھاٹ پر خطرے کے نشان سے 2.5 میٹر اور سن کوشی ندی خورکوٹ میں 3 میٹر اوپر بہنے لگی۔
2. گلیشیرز کا پگھلاؤ اور گلیشیائی جھیل کا پھٹنا (GLOF)
16 اگست 2024 کو نپال کے ضلع سولومبکھو کی وادی تھامے (Thame) میں آنے والا سیلاب مون سون کی بارش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک تعاقبی گلیشیائی جھیل کے پھٹنے (Cascading Glacial Lake Outburst Flood) کا واقعہ تھا۔
‘انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ’ (ICIMOD) کی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ سطح سمندر سے 4,900 میٹر کی بلندی پر واقع بالائی ‘نگولے چھو’ (Upper Ngole Cho) جھیل کے اوپر برف اور چٹانوں کے ایک بڑے تودے (Rock Avalanche) کے گرنے سے شروع ہوا۔
- پہلا مرحلہ: تودہ گرنے سے پیدا ہونے والی صدماتی لہر نے جھیل کے قدرتی مورین بند کو توڑ دیا اور 1,56,000 کیوبک میٹر پانی کو آزاد کر دیا۔
- دوسرا مرحلہ: یہ سیلابی بہاؤ 120 میٹر نیچے واقع نچلی جھیل (Lower Ngole Cho) میں جا گرا، جس سے اس کے مورین بند میں 22 میٹر اونچی اور 51 میٹر چوڑی شگاف پڑ گئی اور مزید 3,03,000 کیوبک میٹر پانی شامل ہو گیا۔
- مجموعی نتیجہ: تقریباً 4,59,000 سے 6,00,000 کیوبک میٹر پانی چٹانوں اور مٹی کے کثیف بہاؤ (Slurry) کی شکل میں 80 کلومیٹر دور تک بہتا چلا گیا اور تھامے وادی کے فرش کو ملبے سے ڈھانپ دیا۔
3. سرحد پار برفانی و چٹانی تودے اور بھوٹے کوشی کا بحران
اگست 2024 کے آخری ایام میں نپال اور تبت کی سرحد پر واقع بھوٹے کوشی اور ترشولی ندی کے طاس میں ایک اور تباہ کن واقعہ پیش آیا۔ تبت کے علاقے میں لیمبو اور لنڈے کھولا (Lhende Khola) ندی کے بالائی حصے میں گلیشیر کے نیچے موجود بنیادی چٹانوں (Bedrock) کا کنکشن ختم ہونے کی وجہ سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا تودہ ندی کی وادی میں جا گرا۔
زمین سائنسدانوں نے اس واقعے سے قبل قریبی سیٹلائٹ اور جیولونگ (Jilong) و ژانگمو (Zhangmu) کے زلزلیاتی اسٹیشنوں پر غیر معمولی زلزلیاتی سگنلز (Seismic Signals) ریکارڈ کیے، جو اندرونی چٹانوں کی شکستگی کی نشاندہی کرتے تھے۔ اس تودے کے باعث دریا کا راستہ عارضی طور پر رک گیا اور بعد میں بند کے اچانک ٹوٹنے کے نتیجے میں ترشولی ندی میں پانی کی سطح محض 30 منٹ کے اندر 30 فٹ (9 میٹر) تک بڑھ گئی، جس نے سرحد کے دونوں جانب بنیادی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔
قبل از وقت پیشگوئی اور سرحد پار مواصلاتی نظام کی کارکردگی
نپال اور تبت میں پیش آنے والے ان سیلابوں نے جہاں جدید ہائیڈرو میٹرولوجیکل ماڈلز کی افادیت کو ثابت کیا، وہیں مقامی سطح پر مواصلاتی انفراسٹرکچر کی خامیوں کو بھی ظاہر کیا۔
- تکنیکی پیشرفت: ICIMOD کے ‘ہائی امپیکٹ ویدر اسیسمنٹ ٹول کٹ’ (HIWAT) اور نیپال کے شعبہ موسمیات نے ستمبر کی طوفانی بارشوں کی قبل از وقت نشاندہی کی اور ریڈ الرٹ جاری کیا۔ UNOSAT اور یورپی خلائی ایجنسی (Copernicus) نے ریئل ٹائم سیٹلائٹ نقشے فراہم کیے۔
- عوامی انتباہ (SMS): نپال ٹیلی کام نے راسوا، نواکوٹ، دھادنگ اور چٹوان میں 6,00,000 سے زائد موبائل ایس ایم ایس (SMS) انتباہات بھیجے، جس سے نچلے علاقوں میں رہنے والے سینکڑوں افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔
- پہاڑی علاقوں کے چیلنجز: بالائی وادیوں میں مواصلاتی سگنلز کمزور ہونے اور پانی کے بہاؤ کی انتہائی تیز رفتار کے باعث خود کار مانیٹرنگ اسٹیشنز بہہ گئے۔ راسوا میں ترشولی ندی میں پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ مقامی شہریوں نے سیٹیاں بجا کر اور شور مچا کر ایک دوسرے کی جان بچائی۔
- سرحد پار ڈیٹا کا تبادلہ: تبت اور نپال کے درمیان سرحد پار ندیوں کے ریئل ٹائم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فوری منتقلی کا ایک مکمل اور خود کار نظام نہ ہونا بھی خطرات کو بڑھانے کا سبب بنا۔
جانی و مالی نقصان اور بنیادی ڈھانچے پر ہلاک خیز اثرات
مواصلاتی نیٹ ورک کی بحالی اور بھوٹے کوشی و ترشولی ندی کے بالائی طاس اور ہائیڈرو پاور ٹنلوں میں ریسکیو آپریشنز کی پیشرفت کے بعد نپال پولیس، NDRRMA اور سرکاری دفاتر کی جانب سے جامع اعدادوشمار جاری کیے گئے۔
جانی و مالی نقصانات کا موازنہ
| نقصان کا زمرہ / نوعیت | ابتدائی رپورٹنگ اعدادوشمار | تازہ ترین جامع اعدادوشمار (NDRRMA / پولیس) | متاثرہ شعبہ / بنیادی سبب |
| نپال میں اموات | 236 تا 246 اموات | 626 تصدیق شدہ اموات | لینڈ سلائیڈنگ، سیلابی بہاؤ (چٹوان اور نوال پراسی) |
| نپال میں لاپتہ افراد | 18 تا 19 افراد | 2,426 لاپتہ افراد | ہائیڈرو ٹنلز (930+ ورکرز)، سیاح (510+)، ندی میں بہنا |
| تبت (چین) میں نقصانات | نامکمل اعدادوشمار | 7 اموات، 554 لاپتہ | گیرونگ کاؤنٹی میں سرحدی فلیش فلڈ اور راک سلائیڈ |
| شدید زخمی / ریسکیو افراد | 165 زخمی | 183+ زخمی (4,451 ریسکیو) | ڈھانچوں کے گرنے اور ملبے سے لگنے والی چوٹیں |
| تباہ شدہ مکانات | 4,667 مکمل تباہ | 4,667+ مکمل تباہ (5,310 جزوی) | فلڈ پلینز پر تعمیرات اور کمزور مٹی کی بنیادیں |
| متاثرہ خاندان | 16,243 سے زائد خاندان | 16,243 سے زائد خاندان | بے گھری، پینے کے پانی اور بجلی کی معطلی |
| سڑک و پل انفراسٹرکچر | 16 برج، 3 اہم شاہراہیں | 44 برج متاثر (10 شاہراہیں منقطع) | پرتھیوی ہائی وے اور آرنی کو مارگ پر لینڈ سلائیڈز |
| پن بجلی کی پیداوار | ~700 میگاواٹ متاثر | 12 پروجیکٹس تباہ (3 ارب نیپالی روپے) | ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور ٹنلز کی تباہی |
| تھامے وادی (مالی نقصان) | $6.18 ملین USD | $6.18 ملین USD | GLOF کے تحت انفراسٹرکچر کی تباہی |
شہری سیلاب اور انفراسٹرکچر کی تباہی
کاٹھمنڈو وادی میں شہری سیلاب کا سائنسی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تباہی کی بنیادی وجہ محض بارش کی شدت نہیں تھی بلکہ غیر منصوبہ بند شہری آباد کاری (Unplanned Urbanisation) تھی۔ باگمتی اور ناکھو ندیوں کے قدرتی سیلابی میدانوں (Floodplains) پر کی گئی غیر قانونی تعمیرات اور پکے کنکریٹ کے ڈھانچوں نے پانی کے جذب ہونے کا قدرتی نظام ختم کر دیا۔
علاوہ ازیں، پرتھیوی ہائی وے سمیت تمام مرکزی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈز کی وجہ سے گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں، جبکہ ترشولی اور بھوٹے کوشی کی ندیوں میں طغیانی کی وجہ سے نپال کے 12 پن بجلی کے منصوبے تباہ ہوئے جس سے ملک کو 700 میگاواٹ توانائی کا خسارہ اٹھانا پڑا۔
عالمی اداروں کی سائنسی رپورٹس اور انکشافات
عالمی اور علاقائی سائنسی اداروں نے ان حوادث کو ہندوکش ہمالیہ کے تبدیل ہوتے ہوئے ایکو سسٹم کا تسلسل قرار دیا ہے۔
| ادارہ / رپورٹ کا نام | کلیدی ڈیٹا / شماریات | اہم سائنسی بصیرت و انکشافات |
| ICIMOD: HKH Glacier Outlook | 2000ء کے بعد گلیشیرز کے پگھلاؤ کی شرح دوگنی ہوئی۔ | 38 مانیٹر کردہ گلیشیرز میں سے 89% نے منفی ماس بیلنس دکھایا؛ گلیشیر موٹائی میں 27 میٹر کمی آئی۔ |
| ICIMOD: Changing Dynamics of Glaciers | 30 سالوں میں گلیشیائی رقبے میں 12% اور برف ذخائر میں 9% کمی۔ | 0.5 مربع کلومیٹر سے چھوٹے گلیشیرز سب سے تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے مقامی GLOFs کے خطرات بڑھ گئے۔ |
| ICIMOD: Thame Valley Investigation | HKH میں 25,000 جھیلیں، جن میں سے 47 خطرناک ترین (PDGLs) ہیں۔ | چھوٹے رقبے والی جھیلیں بھی تباہ کن سیلاب پیدا کر سکتی ہیں؛ تھامے واقعہ میں 4.5 لاکھ کیوبک میٹر پانی خارج ہوا۔ |
| UNOSAT & Copernicus Satellite Analysis | باگمتی، کوشی، گندکی اور مادہیش صوبوں میں نقشہ سازی۔ | سڑکوں کی کٹائی اور ندیوں کے بہاؤ میں مسلسل بگاڑ کی خلائی تصاویر کے ذریعے تصدیق۔ |
| UNICEF Disaster Response Assessment | 35 بچوں کی اموات اور ہزاروں افراد متاثر۔ | پانی کی سپلائی لائنوں کی تباہی سے صحت اور تحفظ کے بحران کا شدید خطرہ۔ |
بلندی پر منحصر گلوبل وارمنگ (Elevation-Dependent Warming)
ان رپورٹس کا سب سے اہم انکشاف “بلندی پر منحصر گلوبل وارمنگ” کا سائنسی عمل ہے۔ ہندوکش ہمالیہ میں واقع گلیشیائی رقبے کا 78 فیصد حصہ 4,500 سے 6,00,0 میٹر کی بلندی پر واقع ہے، جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی شرح عالمی اوسط (0.28 ڈگری سینٹی گریڈ فی دہائی) کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تیز ہے۔
اس کی وجہ سے بلند پہاڑوں پر قائم صدیوں پرانی پرمافروسٹ (Permafrost) یعنی چٹانوں کو جوڑنے والی برف پگھل رہی ہے، جس کے باعث پہاڑی ڈھلوانیں غیر مستحکم ہو رہی ہیں اور راک ایوالانچ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مستقبل کے لیے پائیدار اقدامات کی ترجیحات
نپال اور تبت میں سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے حوادث اس امر کا ثبوت ہیں کہ ہمالیائی خطہ موسمیاتی نقطہ انقلاب (Tipping Point) تک پہنچ رہا ہے۔ اس نوعیت کی تباہ کاریوں کی شدت کو کم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
- سرحد پار ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا تبادلہ: نپال، چین اور بھارت کے مابین ریئل ٹائم ہائیڈرولوجیکل اور زلزلیاتی ڈیٹا کی منتقلی کا باقاعدہ فریم ورک قائم کیا جائے۔
- شہری و ماحولیاتی منصوبہ بندی: باگمتی ندی کے قدرتی سیلابی میدانوں کی بحالی، پرمیبل فلوورنگ، اور رین گارڈنز کی تعمیر کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ بارش کا پانی ندیوں میں اچانک دباؤ نہ بنائے۔
- خطرناک جھیلوں سے پانی کا انخلا: 47 انتہائی خطرناک قرار دی گئی گلیشیائی جھیلوں (PDGLs) کے پانی کی سطح کو سرنگوں اور پائپ لائنز کے ذریعے مصنوعی طور پر کم کیا جائے تاکہ تھامے جیسے واقعات کو روکا جا سکے۔
- پائیدار جیو ٹیکنیکل ڈیزائننگ: شاہراہوں اور پن بجلی پروجیکٹس کی تعمیر میں بائیو انجینئرنگ (Bio-engineering) اور قدرتی نباتاتی بائنڈنگ کو شامل کیا جائے۔
- متبادل انتباہی نظام: موبائل ایس ایم ایس کے علاوہ بالائی پہاڑی علاقوں میں مقامی سیٹلائٹ ریڈیو اور ریئل ٹائم سائرنز نصب کیے جائیں تاکہ مواصلاتی نظام بیٹھنے کی صورت میں بھی انسانی جانوں کا تحفظ ہو سکے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *