خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
حلال شعبے کی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ضروری ہے، خالد مگسیپاکستان نے سری لنکا کو تین وکٹوں سے شکست دے کر سہ فریقی سیریز جیت لیچین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران مودی حکومت کی دفاعی پالیسی کو عالمی تنقید کا سامناافغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت جاریپاکستان سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، ڈی جی آئی ایس پی آردانش اسکولوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہوگا، وزیراعظماینٹی کرپشن پنجاب نے سی ای او ہیلتھ جھنگ ڈاکٹر محمد یونس منیر کو مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں 5 نومبر کو طلب کر لیا، شیخوپورہ ہسپتال میں تعیناتی کے دوران سرکاری فنڈز میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات، تحریری جواب طلبجھنگ میں جرائم کے خلاف نمایاں کارکردگی پر ڈی پی او ساجد حسین کی جانب سے سی سی ڈی ٹیم کی حوصلہ افزائی، ڈی ایس پی بابر نواز ہندل کو لیٹر آف اپریسی ایشن جاری، انسپکٹر اظہر خان سمیت افسران و اہلکاروں میں تعریفی سرٹیفکیٹس اور نقد انعامات تقسیم
جھنگ

قانون کے طالب علم سید حسیب اکبر کا ایف آئی آر خارج کرنے کا مطالبہ،وکلاء کے ساتھ پریس کانفرنس، پریس کلب کے باہر طلبہ کا احتجاج

قانون کے طالب علم سید حسیب اکبر نے اپنے خلاف تھانہ سول لائن لاہور میں درج ایف آئی آر کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے فوری خارج کرنے کا مطالبہ کیا…

قانون کے طالب علم سید حسیب اکبر کا ایف آئی آر خارج کرنے کا مطالبہ،وکلاء کے ساتھ پریس کانفرنس، پریس کلب کے باہر طلبہ کا احتجاج

قانون کے طالب علم سید حسیب اکبر نے اپنے خلاف تھانہ سول لائن لاہور میں درج ایف آئی آر کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے فوری خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات حقائق کے منافی ہیں اور ان کے مستقبل کو متاثر کرنے کا خدشہ ہے۔

آج پریس کلب جھنگ میں سینئر وکلاء رانا شیر محمد بھون ایڈووکیٹ، سید نصرت بخاری ایڈووکیٹ، آصف رمضان ڈھانڈلہ ایڈووکیٹ اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید حسیب اکبر نے کہا کہ ایف آئی آر کے متن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے وکیل نہ ہونے کے باوجود عدالت میں پیش ہوکر خود کو وکیل ظاہر کیا، تاہم یہ الزام درست نہیں۔

سید حسیب اکبر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آخری سال کے طالب علم ہیں، لیکن انہوں نے نہ کبھی وکلاء کی یونیفارم پہنی اور نہ ہی کسی عدالت میں وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب بار کونسل کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں اور اپنا مؤقف تفصیل سے پیش کیا ہے۔

انہوں نے پنجاب بار کونسل اور سینئر وکلاء سے اپیل کی کہ نوجوان قانون کے طلبہ اور مستقبل کے وکلاء کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگایا جائے اور ان کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے اس معاملے میں جھنگ نشست سے ممبر پنجاب بار کونسل سے بھی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

پریس کانفرنس سے قبل قانون کے طلبہ نے پریس کلب جھنگ کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور سید حسیب اکبر کے خلاف درج مقدمے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں