افغانستان پر قابض طالبان رجیم کا خودساختہ بیانیہ زمینی حقائق کو چھپانے میں ناکام ہو گیا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق طالبان کے امن، معیشت، حکمرانی اور انسانی حقوق سے متعلق دعوے حقیقت کے بالکل برعکس ہیں۔ امریکی جریدے یوریشیا کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹس طالبان کے دعووں کو قابل اعتماد قرار نہیں دیتیں۔
افغانستان پر قابض طالبان رجیم کا خودساختہ بیانیہ زمینی حقائق کو چھپانے میں ناکام ہو گیا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق طالبان کے امن، معیشت، حکمرانی اور انسانی حقوق سے متعلق دعوے حقیقت کے بالکل برعکس ہیں۔
امریکی جریدے یوریشیا کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹس طالبان کے دعووں کو قابل اعتماد قرار نہیں دیتیں۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے براہ راست افغان سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں سرگرم 20 سے زائد دہشت گرد گروہ ملک میں سلامتی کے دعووں کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہیں۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے دعووں کے برعکس افغانستان کی معیشت بقا کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ طالبان رجیم کے طویل المدتی اقدامات میں سب سے واضح خود تخریبی خواتین کی تعلیم پر پابندی ہے، جبکہ حکمرانی کے نام پر آمریت، شفافیت اور عوامی نمائندگی کا فقدان موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان محض بے بنیاد دعووں اور پروپیگنڈے کے ذریعے اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق تشدد، معاشی بحران اور انسانی حقوق کی پامالی مسلسل جاری ہیں۔
امریکی جریدے کے مطابق، افغانستان میں برانڈنگ اور حقیقت کے درمیان سب سے بڑا خلا حکمرانی کا ہے، جو طالبان کی دعوں اور زمینی صورتحال کے تضاد کو واضح کرتا ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *