خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
جھنگ: موچیوالا کے چک نمبر 441 میں مبینہ فائرنگ کی ویڈیو پر ڈی پی او ساجد حسین کا نوٹس، پولیس نے 6 ملزمان حراست میں لے لیے، دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاریجھنگ: ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) عبدالرحمن کا ضلعی محکموں کے اجلاس اور شہر کے مختلف علاقوں کے اچانک دوروں میں ترقیاتی منصوبوں، صفائی آپریشن، سیوریج اور ہسپتال کی سہولیات کا جائزہ، بروقت تکمیل اور عوامی خدمات بہتر بنانے کی ہدایتجھنگ: ڈی پی او ساجد حسین کی زیرِ صدارت ٹریفک پولیس اجلاس، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، حادثات کی روک تھام اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے سخت احتساب کی ہدایتجھنگ میں یوتھ کلائمیٹ کانفرنس، 100 سے زائد طلبہ کی شرکت، دریائے چناب میں سیلاب، شدید گرمی، فضائی آلودگی اور کسانوں کے مسائل پر گفتگو، سفارشات نیشنل یوتھ اسٹیٹمنٹ 2026 میں شامل کی جائیں گینائب وزیراعظم کا برآمدات بڑھانے کے لیے مربوط حکومتی تعاون کے عزم کا اعادہحکومت کا ایس ایم ایز کی برآمدی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اعادہسہ ملکی کرکٹ سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے ہرا دیانگہداشت اور معاونت کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے
جھنگ

جھنگ کے محلہ حسنانہ کے گل انار نامور مصور کیسے بنے

جھنگ ضلع میں مختلف شعبوں میں نام پیدا کرنے والے کئی افراد نے جنم لیا ہے ان میں مصوری میں گل انار کا نام نئی نسل کے لیے شاید نیا ہو لیکن مصوری اور…

جھنگ کے محلہ حسنانہ کے گل انار نامور مصور کیسے بنے

جھنگ ضلع میں مختلف شعبوں میں نام پیدا کرنے والے کئی افراد نے جنم لیا ہے ان میں مصوری میں گل انار کا نام نئی نسل کے لیے شاید نیا ہو لیکن مصوری اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے نیا نہیں ہے گل انار 1926 میں جھنگ کے علاقہ محلہ حسنانہ میں حاجی محمد بخش کے ہاں پیدا ہوئے جو کہ زراعت کےپیشے سے منسلک تھےگلنار نے ابتدائی تعلیم میاں محمد شریف سکول محلا دبکراں سے حاصل کی اس کے بعد مقامی مصور اور پینٹر ہنس راج کی شاگردی میں چلے گئے اس زمانے میں ہنس راج بہت مشہور پینٹر تھے وہ پاکستان بننے کے بعد بھارت منتقل ہو گئے تھے

ہنس راج پاکستان بننے سے پہلے ضلع بھر کے سب سے مشہور مصور اور ارٹسٹ تھے پر بھر وات سینما جو بعد میں فردوس سینما کے نام سے مشہور ہوا جہاں اپ فردوس مارکیٹ ہے میں بطور بورڈ انچارج کام کرتے تھے ہنس راج کے بھارت منتقل ہونے کے بعد گل انار نے مصوری میں مہارت حاصل کرنے کے لیے لائل پور موجودہ فیصل اباد میں اس زمانے کے بڑے ارٹسٹ اور مصور استاد جلال کی شاگردی اختیار کر لی وہاں ان کے کام میں مزید نکھار پیدا ہو گیا انہوں نے اپنے استاد سے اجازت لے کر وآپس جھنگ آ کر 1955 میں تھانہ صدر چوک میں اپنی دکان بنائی اور سائن بورڈ بنانے کے ساتھ ساتھ مصوری کا کام بھی شروع کر دیا اس زمانے میں انہوں نے پورٹریٹ فوٹو بنانے کا کام بھی کیا جس سے ان کا نام جھنگ اور گرد و نوا ح کے علاقوں میں مشہور ہو گیا بڑے بڑے لینڈ لارڈ ان سے اپنی پورٹر بنانے کے لیے فرمائشیں کرنے لگے اس دوران انہوں نے محکمہ ایریگیشن جھنگ ہیڈ تریموں پر کچھ عرصہ کے لیے سرکاری نوکری بھی کی لیکن اپنی فنکارانہ طبیعت کے وجہ سے جلد ہی وہ اس نوکری سے اگتا گئے اور نوکری کو خیر باد کہہ کر پھر دھجی روڈپر دوبارہ کام شروع کر دیا اس دوران انہوں نے بڑے بڑے زمین داروں وکیلوں سیاستدانوں کے گھروں میں پینٹنگ بنائی جن میں کرنل عابد حسین ،عطا اللہ شاہ بخاری ،شیر افضل جعفری ،سید اسحاق شاہ ،شیخ مجید ،شیخ سعید ایڈوکیٹ وغیرہ شامل ہیں ۔

انہوں نے مشہور شاعر کیپٹن جعفر طاہر، شیر افضل جعفری، کی کتابوں کہ ٹائٹل بھی بنائیں ایک دفعہ ان کے قریبی دوست پینٹر صفدر جاوید نے ہمیں بتایا تھا گل انار اگر لاہور جیسے شہر میں ہوتا تو اج بڑا نام ہوتا وہ بڑے مصور اور ارٹسٹ تو تھے ہی ایک بہترین اور اچھے انسان بھی تھے ان کے بہت سارے شاگرد اج جھنگ کے نامور سپوت ہیں اور پاکستان بھر میں پینٹری اور مصوری کا کام کرتے ہیں سبحان پینٹر محمود پینٹر شہاب پینڈر اور عابد پینٹر شامل ہیں ایک دفعہ ان کے قریبی دوست سید اسحاق شاہ مرحوم نے گل انار کے بارے میں ہمیں بتایا کہ تحریک پاکستان کے دوران وال چاکنگ کے ذریعے مسلمانوں میں ازادی کے شعور کو پیدا کرنے میں گل انار نے اہم کردار نبھایا تھا انہوں نے عطا اللہ شاہ بخاری کے ساتھ تحریک ازادی کے لیے دن رات کام کیا جن کو ملکی سطح پر اور بیرون ملک سطح پر کئی ایوارڈ مل چکے ہیں ان کے بڑے بیٹے حاجی گل حیدر جھنگ کے سب سے بڑے فوٹو سٹوڈیوگل فوٹو سٹوڈیو کے مالک ہیں وہ جھنگ چیمبر و کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بھی رہ چکے ہیں ان کا ایک بیٹا گل اختر گل فلیکس کے نام پر برجی چوک پر کاروبار کرتا ہے ایک بیٹا حفیظ سینٹر لاہور میں موبائل کا کام کرتا ہے ایک بیٹا بیرون ملک ہوتا ہے اور ایک بیٹا کپڑے کا کاروبار کرتا ہے جس کا نام گلستار ہے گل انار کے بیٹے بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ وہ گل انار جیسے بڑے مصور اور ارٹسٹ کے بیٹے ہیں ان کے والد بہت اچھے انسان تھے گل انار کو پاکستان بننے کے بعد جھنگ میں پہلے مسلمان مصور ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ان سے پہلے جھنگ میں تمام ہندو مصوری اور پینٹر کے کام سے منسلک تھے گل انار 1989 میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے اور اپنے پیچھے اپنا نام اور کام ہمیشہ کے لیے فنون لطیفہ کے شوقین افراد کے لیے چھوڑ گئے جھنگ کی نئی نسل گلنار کے کاموں سے شاید واقف نہیں ان کو فوری طور پر اس عظیم مصور اور ارٹسٹ کے بارے میں اگاہی دینے کے لیے کوئی سرکاریسطح پر جھنگ ارٹ کونسل کا نام گل انار ارٹ کونسل رکھنا چاہیے اور ان کے بیٹے اور پوتو پوتیاں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے دادا کے نام اور اپنے والد کے نام سے سالانہ فنون لطیفہ میں اہم کردار ادا کرنے والے کے لیے ایوارڈ کا اجرا کریں تاکہ ان کا نام ہمیشہ قائم رہے

یہ تحریر مصنف کی ذاتی آراء اور تحقیق پر مبنی ہے جس سے دی جھنگ ٹائمز کا متفق ہونا ضروری نہیں

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں