دریائے چناب میں بالائی علاقوں سے پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کے باعث ہیڈ تریموں پر پانی کی سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے
دریائے چناب میں بالائی علاقوں سے پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کے باعث ہیڈ تریموں پر پانی کی سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق اس وقت ہیڈ تریموں پر پانی کی آمد 84 ہزار 776 کیوسک جبکہ اخراج 71 ہزار 276 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم فی الحال ضلع جھنگ کو کسی فوری سیلابی خطرے کا سامنا نہیں۔ ایکسین ہیڈ تریموں کے مطابق موجودہ صورتحال مکمل طور پر زیرِ نگرانی ہے اور ہیڈ تریموں پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی پہنچنے کی صورت میں نچلے درجے کا سیلاب متوقع ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں کسی حتمی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ آئندہ چند روز میں پانی کے بہاؤ کا انحصار بالائی علاقوں کی بارشوں اور دریائی صورتحال پر ہوگا۔ دوسری جانب ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 2 لاکھ 75 ہزار کیوسک سے تجاوز کر چکی ہے۔ محکمہ آبپاشی کے اندازے کے مطابق ہیڈ مرالہ سے آنے والا یہ ریلہ آئندہ تین سے چار روز میں ہیڈ تریموں اور ضلع جھنگ کے حدود میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے باعث متعلقہ اداروں نے حفاظتی اقدامات مزید تیز کر دیے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے دریائے چناب کے کنارے آباد مکینوں کو محتاط رہنے، غیر ضروری طور پر دریا کے قریب جانے سے گریز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ریسکیو 1122، محکمہ آبپاشی، پولیس، صحت، لائیو اسٹاک، بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مشینری، عملہ اور امدادی وسائل بھی مکمل طور پر تیار رکھے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریائے چناب کی صورتحال پر چوبیس گھنٹے کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور پانی کے بہاؤ میں کسی بھی غیر معمولی اضافے کی صورت میں عوام کو بروقت آگاہ کرتے ہوئے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *