فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح طور پر کہاہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ خوشامد سے نہیں بلکہ طاقت سے جیتے گا۔ راولپنڈی میں ایک نیوز کانفرنس میں گزشتہ سال کے دوران انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح طور پر کہاہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ خوشامد سے نہیں بلکہ طاقت سے جیتے گا۔
راولپنڈی میں ایک نیوز کانفرنس میں گزشتہ سال کے دوران انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ سال دہشتگردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہمارے لئے ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں میں شدت دیکھی گئی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پوری دنیا نے افغانستان کے دہشتگردی کی کارروائیوں کا گڑھ بننے کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو بھی تسلیم کیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ گزشتہ سال خفیہ اطلاع کی بنیاد پر 75 ہزار ایک سو پچھتر کارروائیاں کی گئیں جن میں روزانہ اوسطاً دوسو چھ کارروائیاں کی گئیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے پانچ ہزار تین سو ستانوے واقعات ہوئے جن میں سے تین ہزار آٹھ سو گیارہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی وجہ سیاست اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ ہے۔
گزشتہ سال ہونے والے دہشت گردی کے دس بڑے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان میں جو لوگ ملوث تھے وہ تمام افغانی تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دوہزار پانچ سو ستانوے دہشتگرد مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر مشتمل شہدا کی کل تعداد ایک ہزار دو سو پینتیس تھی۔ انہوں نے اُن شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے پاکستان کی سلامتی اور مستقبل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افسوس ظاہر کیا کہ افغان سرزمین دہشتگردی کی آماجگاہ بن چکی ہے جہاں ہر قسم کے دہشت گردوں کوتربیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو دہشتگردی کی کارروائیوں کیلئے بنیاد فراہم کرتی ہے جنہیں بھارت کی طرف سے مالی امداد اور سرپرستی فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے چھوڑے گئے جدید ترین ہتھیار بھی دہشت گرد گروہوں کے پاس موجود ہیں۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *