پاکستان ایئرفورس کے جانباز ہیرو، پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید (نشانِ حیدر) کا 54واں یومِ شہادت آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہیں جنہوں نے جرات، بہادری اور وطن سے بے مثال محبت کی لازوال داستان رقم کی۔ پائلٹ آفیسر راشد منہاس 17
پاکستان ایئرفورس کے جانباز ہیرو، پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید (نشانِ حیدر) کا 54واں یومِ شہادت آج عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
وہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہیں جنہوں نے جرات، بہادری اور وطن سے بے مثال محبت کی لازوال داستان رقم کی۔
پائلٹ آفیسر راشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور 14 مارچ 1971 کو پاکستان فضائیہ کے 51 ویں جی ڈی یو کورس میں کمیشن حاصل کیا۔
تربیتی دنوں میں ہی ان کی قائدانہ صلاحیتیں نمایاں تھیں اور نمبر 2 فائٹر کنورژن یونٹ میں ان کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔
20 اگست 1971 کو انہوں نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی۔ اس روز معمول کی تربیتی پرواز کے دوران ان کے بنگالی انسٹرکٹر نے زبردستی جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا اور بھارتی سرحد کی طرف بڑھنے لگا۔ جہاز جب دشمن کی سرحد سے صرف 40 میل کے فاصلے پر تھا تو راشد منہاس شہید نے بہادری سے مزاحمت کی اور بلند آواز میں کہا:”میں تمہیں کسی بھی صورت بھارتی سرحد عبور نہیں کرنے دوں گا۔
“انسٹرکٹر کی تمام کوششوں کے باوجود، راشد منہاس شہید نے جہاز کا رخ موڑ کر بھارتی منصوبہ ناکام بنا دیا اور جہاز کو سرحد سے صرف 32 میل دور زمین سے ٹکرا دیا۔
اس عظیم قربانی نے دشمن کی سازش کو ناکام بنایا اور وطن کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچا لیا۔اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے راشد منہاس شہید پاکستان کے سب سے کم عمر نشانِ حیدر کے حق دار قرار پائے۔
وہ اپنی قربانی سے آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال مثال اور مشعلِ راہ بن گئے۔قوم آج ان کے 54ویں یومِ شہادت پر اس عہد کی تجدید کر رہی ہے کہ وطن کی آزادی اور وقار کے لیے دی گئی ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔



















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *