728 x 90

سیلاب زدگان کی بحالی تک صوبائی حکومتوں کیساتھ کام کرتے رہیں گے،وزیراعظم

سیلاب زدگان کی بحالی تک صوبائی حکومتوں کیساتھ کام کرتے رہیں گے،وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔  جمعہ کے روز اسلام آباد میں حالیہ طوفانی بارشوں و سیلابی صورتحال اور جاری امدادی سرگرمیوں و بحالی کیلئے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔

 جمعہ کے روز اسلام آباد میں حالیہ طوفانی بارشوں و سیلابی صورتحال اور جاری امدادی سرگرمیوں و بحالی کیلئے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں و سیلاب کے متاثرین کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی ہر قسم کی معاونت کیلئے ہمہ وقت تیار ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کے بروقت انخلا اور امدادی سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی یقینی بنائی جائے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایسے متاثرین جو نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں، ان تک مالی معاونت پہنچانے کیلئے کمیٹی قائم کی جائے۔ انہوں نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ہدایت جاری کی کہ وہ آئندہ برس کی مون سون کیلئے ابھی سے تیاری کرے اور پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات بشمول موسلادھار بارشیں و سیلاب سے بچانے اور انکے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے دو ہفتے میں ایک جامع لائحہ عمل پیش کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، پاک فوج اور ریسکیو و ریلیف کے وفاقی و صوبائی اداروں کی لوگوں کے ریسکیو و ریلیف کیلئے کاروائیاں قابل تحسین ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مون سون کا آخری اسپیل ختم ہونے کے بعد متاثرین کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا جبکہ موجودہ طور پر تمام تر وسائل و افرادی قوت ریسکیو، ریلیف و انخلا میں مصروف عمل ہے۔

 سیلابی ریلے کے حوالے سے بتایا گیا کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی ریلہ اس وقت وسطی اور جنوبی پنجاب میں پہنچ چکا ہے جو جلد پنجند سے گزرے گا۔

پنجند پر 10 سے 12 لاکھ کیوسک ریلے سے بچاؤ کی تیاری مکمل کی گئی جبکہ سیلابی ریلے کی اصل مقدار 6 لاکھ کیوسک کے لگ بھگ ہوگی جو توقع سے کم ہے۔

ملتان میں اس وقت انتظامیہ، پاک فوج اور ریسکیو ادارے سیلابی ریلے کو بغیر کسی بند کو توڑے گزارنے کی بھرپور کوشش میں مکمل تیاری سے مصروف عمل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بجلی کے متاثرہ نظام میں سے 80 فیصد کو بحال کیا جا چکا ہے جبکہ متاثرہ پلوں و شاہراہوں کو روابط کی بحالی کیلئے مرمت کرکے ٹریفک کیلئے کھولا جا چکا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر پورے ملک میں 20 لاکھ سے زائد لوگوں کی بروقت نقل مکانی کروائی گئی جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 4100 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے متاثرین کیلئے 6300 ٹن سے زائد امدادی سامان پہنچایا گیا۔مزید بتایا گیا کہ لوگوں کو طبی امداد کی فراہمی کیلئے 2400 سے زائد میڈیکل کیپس قائم کئے گئے جبکہ ملک بھر میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد اور مالی نقصانات کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے مالی معاونت کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر نادرا کے ذدیعے مکمل کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے بھی اپنے اپنے صوبوں کے حوالے سے جائزہ پیش کیا۔

وزیرِ اعظم کی صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos