خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان لائیو اسٹاک اور ویکسین کی مقامی تیاری میں تکنیکی تعاون پر اہم پیشرفتپاکستان بیس سال بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے گاپاکستان کا اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس برائے ابیئی کیلئے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہطالبان رجیم کی تعلیم دشمن پالیسیوں نے افغانستان کی نئی نسل کا مستقبل تباہی کے دہانے پرپہنچا دیاجھنگ میں دو ٹریفک حادثات، موٹرسائیکلوں کے تصادم میں 3 افراد زخمی، تیز رفتار موٹرسائیکل کی ٹکر سے 65 سالہ خاتون جاں بحق،ریسکیوپاکستان، برطانیہ کا انسداد دہشت گردی، منشیات اور سائبر جرائم کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاقوزیراعظم کی ملک بھر میں انٹرنیٹ کی دستیابی اور ٹیکنالوجی تک آسان رسائی یقینی بنانے کی ہدایتریسکیو 1122 جھنگ کے تمام اسٹیشنز پر اہلکاروں کے ماہانہ فزیکل فٹنس ٹیسٹ، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جسمانی استعداد کا جائزہ لیا گیا
معلومات تک رسائی

عوامی اعتماد ختم ہوا توعدلیہ کی آزادی کمزورپڑجائے گی، سپریم کورٹ کی قوت صرف عوام کا اعتماد ہے،معلومات تک رسائی کے کیس میں جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

معلومات تک رسائی کے کیس میں جسٹس اطہرمن اللہ نے اضافی نوٹ لکھا کہ عوامی اعتماد ختم ہوا توعدلیہ کی آزادی کمزورپڑجائے گی، سپریم کورٹ کی قوت صرف عوام کا اعتماد ہے۔ سپریم کورٹ…

عوامی اعتماد ختم ہوا توعدلیہ کی آزادی کمزورپڑجائے گی، سپریم کورٹ کی قوت صرف عوام کا اعتماد ہے،معلومات تک رسائی کے کیس میں جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

معلومات تک رسائی کے کیس میں جسٹس اطہرمن اللہ نے اضافی نوٹ لکھا کہ عوامی اعتماد ختم ہوا توعدلیہ کی آزادی کمزورپڑجائے گی، سپریم کورٹ کی قوت صرف عوام کا اعتماد ہے۔

سپریم کورٹ میں معلومات تک رسائی کے کیس میں جسٹس اطہرمن اللہ کا اردومیں اضافی نوٹ جاری کردیا گیا۔ جس میں انھوں نے لکھا کہ (سابق) چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کے فیصلے سے متفق ہوں، درست ہے آرٹیکل 19 اے کے بنیادی حق کا استعمال مناسب پابندیوں کے تابع ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مناسب پابندیوں کی اصطلاح مگرپارلیمان کو آئینی حق کا دائرہ محدود کرنے کا اختیار نہیں دیتی، آرٹیکل آٹھ ریاست کو ایسی قانون سازی سے روکتا ہے جوبنیادی حقوق کو ختم یا محدود کرے، سپریم کورٹ بنیادی حقوق کے تناظر میں دیگر اداروں کے اقدامات کا عدالتی جائزہ لیتی ہے۔

انھوں نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ یہ ناقابل تصورہے کہ سپریم کورٹ شہریوں کے بنیادی حقوق چھین لے، عوام یہ سمجھیں کہ بنیادی حقوق کے محافظ خود حقوق محدود کرنے میں ملوث ہیں توان کا اعتماد ختم ہوجائے گا۔

جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا ہے کہ عوامی اعتماد ختم ہوا توعدلیہ کی آزادی کمزورپڑجائے گی، سپریم کورٹ کے پاس تلواریا خزانے کا کوئی کنٹرول نہیں، سپریم کورٹ کی قوت صرف عوام کا اعتماد ہے، معلومات تک رسائی کا حق بدعنوانی کیخلاف ایک قلعہ ہے

پٹیشن سی پی ڈی آئی کے مختا راحمد علی کی جانب سے دائر کی گئی تھی

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں