728 x 90

قومی اسمبلی،سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر عام بحث کا آغاز

قومی اسمبلی،سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر عام بحث کا آغاز

قومی اسمبلی میں آج اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر عام بحث کا آغاز ہوا ۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما عمر ایوب خان نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو ٹیکس سے مستثنی ہوناچاہیے تاکہ اس کی برآمدی صلاحیت اور معاشی ترقی کو فروغ دیاجاسکے۔ پارلیمانی امور کے وزیر طارق

قومی اسمبلی میں آج اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر عام بحث کا آغاز ہوا ۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما عمر ایوب خان نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو ٹیکس سے مستثنی ہوناچاہیے تاکہ اس کی برآمدی صلاحیت اور معاشی ترقی کو فروغ دیاجاسکے۔

پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی پر توجہ دے رہی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کیلئے مختلف شعبوں میں اصلاحات کی ہیں۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ اس بات کو تسلیم کیاجاناچاہیے کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے سیاسی طورپر غیرمقبول فیصلہ کیا ۔

سید حفیظ الدین نے ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زوردیا   انہوں نے کہاکہ  سمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے ۔

ثمینہ خالد گھرکی نے کہاکہ زرعی شعبے کی ترقی کیلئے چھوٹے کاشتکاروں کی مدد کی جائے ۔

جمشید دستی نے کہاکہ سرائیکی علاقے میں پانی کے مسائل حل کیئے جائیں  انہوں نے کہاکہ  اس علاقے میں ایک یونیورسٹی بھی قائم کی جائے ۔

شیخ آفتاب احمد نے کہاکہ حکومت نے معیشت کو درست سمت میں گامزن کردیا ہے  انہوں نے یقین ظاہر کیاکہ ملک اب ترقی کی راہ پر آگے بڑھے گا ۔

سید وسیم حسین نے تجویز دی کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافے کیاجائے ۔

 سینیٹ نے آج آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا۔

قائد حزب اختلاف سید شبلی فراز نے بحث شروع کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرض کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ڈیموں کی تعمیر کیلئے زیادہ فنڈز مختص کئے جانے چاہئیں۔

 سید شبلی فراز نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اختیارات میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروبار میں آسانی پر اثر پڑے گا اور سرمایہ کاری کے امکانات میں رکاوٹیںپیدا ہونگی۔

انہوں نے روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے کی تجویز دی۔

عرفان الحق صدیقی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے اعلی تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرنے کی تجویز دی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اکادمی ادبیات، اردوسائنس بورڈ اور اس جیسے دیگر اداروں کی  تشکیل نو کی جانی چاہئے۔

سینیٹر شہادت اعوان نے تجویز دی کہ بجٹ میں دیہی ترقی کو ترجیح دینی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبے، کراچی اور حیدرآباد سکھر موٹروے کے لئے مختص بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos