ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 جھنگ، سلطان محمود نے ماہ فروری 2026 کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے جوانوں نے پیشہ وارانہ مہارت اور جذبۂ خدمت کے تحت ہر نوعیت کی ایمرجنسی میں بلا تفریق عوام الناس کو بروقت امداد فراہم کی اور قیمتی انسانی جانوں
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 جھنگ، سلطان محمود نے ماہ فروری 2026 کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے جوانوں نے پیشہ وارانہ مہارت اور جذبۂ خدمت کے تحت ہر نوعیت کی ایمرجنسی میں بلا تفریق عوام الناس کو بروقت امداد فراہم کی اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ ماہ فروری 2026 کے دوران ریسکیو کنٹرول روم کو مجموعی طور پر 19,219 فون کالز موصول ہوئیں، جن میں سے 6,158 ایمرجنسی کالز تھیں۔ مزید برآں 10,170 غیر متعلقہ/غیر ضروری کالز، 2,888 معلوماتی کالز، 02 رانگ کالز اور 01 فیک کال موصول ہوئی۔ فیک کال پر کوئی رسپانس نہیں کیا گیا، جبکہ غیر ضروری کالز کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے شہریوں کو مسلسل آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کے مطابق تمام 6,158 ایمرجنسی کالز پر فوری رسپانس فراہم کیا گیا، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
803 روڈ ٹریفک حادثات
4,808 میڈیکل ایمرجنسیز
32 آتشزدگی کے واقعات
82 کرائم ایمرجنسیز (تشدد و گولی لگنے کے واقعات)
01 ڈوبنے کا واقعہ
154 بلندی سے گرنے کے واقعات
278 متفرق ایمرجنسیز
انہوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو 1122 جھنگ کی یومیہ اوسط ایمرجنسیز 219.93 رہی۔ اربن اور رورل علاقوں میں اوسط رسپانس ٹائم 8.97 منٹس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آتشزدگی کے واقعات میں اوسط رسپانس ٹائم 16.85 منٹس رہا، جو پیشہ وارانہ تیاری اور بروقت کارروائی کا مظہر ہے۔
ماہ فروری کے دوران مجموعی طور پر 6,206 متاثرین کو ریسکیو کر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں سے 3,468 افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ مختلف حادثات کے نتیجے میں 127 افراد جاں بحق ہوئے۔
آخر میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سلطان محمود نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری اور رانگ کالز سے گریز کریں تاکہ حقیقی ایمرجنسی میں مبتلا افراد کو فوری اور مؤثر امداد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بالخصوص ماہ رمضان المبارک کے دوران افطار کے اوقات میں جلد بازی سے اجتناب کرنے، ٹریفک قوانین کی پابندی کرنے، ہیلمٹ کے استعمال اور دیگر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *