728 x 90

مودی دور میں متنازعہ قوانین کے ذریعے جبر کا نظام نافذ

مودی دور میں متنازعہ قوانین کے ذریعے جبر کا نظام نافذ

نام نہاد سیکولر بھارت مودی راج میں آمرانہ پالیسیوں کی زد میں آگیا۔ بھارتی سرکار کیخلاف اظہار رائے کی آزادی سلب کرنے سے لیکر مسلمانوں کو ہندوتوا نظریہ کی بھینٹ چڑھانا مودی کا وطیرہ بن گیا۔ عالمی جریدہ ڈی ڈبلیو نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ یو اے پی اےکو بھارتی عوام

نام نہاد سیکولر بھارت مودی راج میں آمرانہ پالیسیوں کی زد میں آگیا۔

بھارتی سرکار کیخلاف اظہار رائے کی آزادی سلب کرنے سے لیکر مسلمانوں کو ہندوتوا نظریہ کی بھینٹ چڑھانا مودی کا وطیرہ بن گیا۔

عالمی جریدہ ڈی ڈبلیو نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ یو اے پی اےکو بھارتی عوام کیلئے خطرناک قرار دے دیا ۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت بغیر مقدمہ بھارتی عوام کی برسوں قید معمول بن گیا۔

دہلی فسادات کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام پانچ سال سے بغیر مقدمہ جیل میں قید ہیں، ڈی ڈبلیو۔

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں، ڈی ڈبلیو۔

بھارتی کمیونسٹ پارٹی کی رہنما برندا کرات کے مطابق؛

دہلی فسادات کے 18 میں سے 16 مسلمان ملزمان قرار، جبکہ بی جے پی رہنما آزاد ہیں ۔

انسدادِ دہشت گردی کے متنازعہ قانون POTA (پریونشن آف ٹیررازم ایکٹ)کا منظم غلط استعمال بھی بے نقاب ہو چکا ہے، ڈی ڈبلیو۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ آکار پٹیل نے بھی بھارتی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کی مبہم شقوں پر سخت تنقید کی۔

نام نہاد قومی سلامتی کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی ظلم تاحال جاری ہے، ڈی ڈبلیو۔

ماہرین کے مطابق مودی حکومت متنازعہ قوانین کو اقلیتوں کے خلاف ہتھیار بنا رہی ہے۔

مودی کو عوامی تحفظ کے نام پر آزادیوں کو کچلنے کا اختیار کس نے دیا؟ ماہرین کا سوال۔

مودی کا جبر صرف اندرونی نہیں، خطے کے لیے بھی عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos