728 x 90

کیا ضلع جھنگ ڈویژن بن پائے گا؟

کیا ضلع جھنگ ڈویژن بن پائے گا؟

سوشل میڈیا سمیت دیگر مختلف فورمز پر آج کل ایک بار پھر ضلع جھنگ کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کا درجہ دینے کے مطالبہ کی بازگشت سنائی دی جارہی ہے یہ مطالبہ نیا نہیں ہے کئی سالوں سے جھنگ کے باسی غیر منظم انداز سے اس نعرے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں اور اپنے تئیں کوشش کرتے

سوشل میڈیا سمیت دیگر مختلف فورمز پر آج کل ایک بار پھر ضلع جھنگ کو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کا درجہ دینے کے مطالبہ کی بازگشت سنائی دی جارہی ہے یہ مطالبہ نیا نہیں ہے کئی سالوں سے جھنگ کے باسی غیر منظم انداز سے اس نعرے کیساتھ جڑے ہوئے ہیں اور اپنے تئیں کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔تاہم کسی بھی عوامی مطالبہ کو سیاسی پشت پناہی یا مکمل سپورٹ حاصل نہ ہواس وقت تک خواب صرف خواب ہی رہتے ہیں اور لوگ اسی آس اور امید کی ہچھکولے کھاتی کشتی میں سوار رہتے ہیں کہ کبھی تو یہ کشتی پار لگ جائیگی۔
2019 میں بھی جھنگ سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی نے چنیوٹ کے دو ایم پی ایز کے ہمراہ اسوقت کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے جھنگ کو سول ڈویثرن بناکر اس میں جھنگ ،چنیوٹ او ربھکر کو شامل کرنےکا مطالبہ کیا۔ اس حوالہ سے ڈپٹی کمشنر جھنگ طاہر وٹو کی جانب سے مورخہ2 جولائی 2019 کو کمشنر فیصل آباد ڈویثرن کو خط نمبر 499/NTO کے ذریعے جھنگ کے تاریخی،انتظامی اور ثقافتی پس منظر کا جائزہ لینے کے بعد دو ہمسایہ اضلاع چنیوٹ اور بھکر کیساتھ مماثلت اور وابستگی کے تناظر میں ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرکےجھنگ کو نیا ڈویثرن کو بنانے کی پر زور سفارش کی گئی ارسال کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1849 سے قائم اس ضلع کی حدود اس وقت شیخوپورہ،خوشاب، ملتان کیساتھ ملتی تھیں تاہم بعدا زاں فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کو الگ کرکے بالترتیب ڈویثرن اور ضلع کا درجہ دے دیا گیا اور جھنگ کو بھی اسی ڈویثرن میں شامل کر دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جھنگ کی اس وقت آبادی27 لاکھ 44 ہزار نفوس پر مشتمل ہے جس کی حدود ضلع چنیوٹ اور بھکر کیساتھ ملتی ہیں جن کی آبادی بالترتیب13 لاکھ69 ہزار اور16 لاکھ50 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔تاہم بعد ازاں چنیوٹ کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد و سیاسی شخصیات نے نئے مجوزہ ڈویثرن جھنگ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ فیصل آباد جیسے ترقی یافتہ ڈویثرن سے الگ نہیں ہونا چاہتے جو کہ چنیوٹ سے بہت کم فاصلے پر ہے۔ جس پرکمشنر فیصل آباد کی جانب سے دوبارہ تفصیل رپورٹ طلب کرنے پر ڈپٹی کمشنر جھنگ کی جانب سے مورخہ 11 اکتوبر2019 کو ایک اور- جامع رپورٹ مرتب کرکے ارسال کی گئی جس میں ضلع کی مختصر تاریخ ،جائزہ،خصوصیات،زراعت،لائیو سٹاک،تعلیم،صحت، پولیس، عدلیہ، صنعت ، زرعی اور ریونیو سیٹ اپ کو سامنے رکھتے ہوئے ضلع جھنگ کو نیا ڈویثرنل ہیڈ کوارٹر بنانے کی سفارش کی گئی اس رپورٹ میں دو مختلف تجاویز دی گئیں پہلی تجویز میں ضلع جھنگ،ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ضلع بھکر پر مشتمل ڈویثرن بنانے کی سفارش کی گئی جبکہ دوسری تجویز میں ضلع جھنگ،ضلع بھکر اور ضلع لیہ پر مشتمل ڈویثرن بنانے کی سفارش کی گئی ۔ اس رپورٹ کی روشنی میں ٹاسک فورس برائے ریونیو حدود(ضلع و تحصیل) پنجاب کی سول سیکرٹریٹ لاہور میں مورخہ21 جنوری 2020 کو میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت صوبائی وزیر قانون راجہ محمد بشارت نے کی۔ میٹنگ میں سیکرٹری ٹاسک فورس کی جانب سے جھنگ کو نئے ڈویثرن بنائے جانےبارے تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور کمیٹی کو بتایا گیا کہ قبل ازیں12 ستمبر 2019 کو ٹاسک فورس کی ہونیوالی میٹنگ میں آبادی،جغرافیائی ہم آہنگی اور سماجی و ثقافت مماثلت ، متعلقہ ضلع کونسل کی سفارشات ،مختصر یا درمیانی مدت کیلئے مالی بوجھ اورآمدنی کی صلاحیت کی تجاویز دی گئی تھیں اور فیصلہ کیا گیا کہ ان تجاویز کووزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے منظور کردہ سمری کے مطابق ہم آہنگ کرکے اس پر غور کیا جائیگا۔ بعدازاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے صوبہ بھر کی تحصیلوں اور اضلاع بارے تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کو بنانے کیلئے آبادی واحد معیار نہیں ہونا چاہیے۔صوبائی وزیر ظہیر الدین نے کہ ضلع کی حدود میں قومی اسمبلی کے حلقے کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے ضلع کی تشکیل کے دوران ضلعی ہیڈکوارٹر سے دوری کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد اراکین کی طرف سے تجویز دی گئی کہ نئی تحصیل اور اضلاع کی تشکیل کےلیے آبادی،جغرافیائی اور سماجی ثقافت ہم آہنگی،متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی سفارشات،آمدنی کی صلاحیت،مختصر و درمیانی مدت کیلئے مالی لاگت جیسے معیارات سامنے رکھ کر ان حتمی تجاویز کو صوبائی کابینہ کو ارسال کیا جائیگا تاکہ اجتماعی حکمت عملی سے ان کی منظوری دی جائے۔ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ آف ریونیو کوضلعی انتظامیہ کی جانب سے نئی تحصیل اور ضلع بنانے کی درخواست متعلقہ ٹیکنیکل گروپ کو بھیجی جائے گی جس کی قیادت سینئر ممبربورڈ آف ریونیو کریں گے جس میں محکمہ خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی اورریونیو کلیکشن کی نمائندگی ہوگی۔ اس کے بعد ٹاسک فورس میں اس گروپ کی رپورٹ پر غور کیا جائے گا بعدازاں حتمی رپورٹ کابینہ کمیٹی کو منظوری کیلئے ارسال کی جائیگی۔
کمیٹی کے منٹس آف میٹنگ کے مطابق نئے مجوزہ ڈویثرن جھنگ کی سفارشات کو یکسر مستردکر دیا گیا جس کی تصدیق کمشنر فیصل آباد کی جانب سے ڈپٹی کمشنر جھنگ کو جاری خط نمبر1120/AC(R)/SR/BOR/429-2021بتاریخ17 مارچ2021 نے کر دی جس میں کہا گیا کہ آپ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ پنجاب میں نئے انتظامی یونٹس کیلئے طے کردہ معیارات پر پورا نہیں اترتی اس لیے ان طے شدہ معیارات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع اور تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے جو ڈویثرنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے اپنے خیالات اور سفارشات پر مبنی ہو تاکہ اس رپورٹ کو بورڈ آف ریونیو کو ارسال کرکے اس پر مزید کاروائی کی جاسکے۔میں نے یہ تمام تر معلومات پنجاب شفافیت و معلومات تک رسائی کے قانون 2013 کے تحت جون 2022 میں حاصل کیں تب مجھے یہ جان کر دھچکا لگا کہ ان سفارشات کو مسترد ہوئے اس وقت چار سال کا عرصہ گذرچکا ہے لیکن ہمارے عوامی نمائندے اس حوالہ سے خاموش ہیں۔
ستمبر 2022میں اس وقت کے ایم پی اے کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں جھنگ کو ڈویثرن بنانے کی قرارداد پیش کی گئی جو میرے لیے حیرانگی کا باعث تھی کہ یہ مطالبہ 2019 میں کیا جاچکا تھا جس پر ابتدائی کام بھی ہوا اور رپورٹس بھی مرتب کرکے متعلقہ ٹاسک فورس میں پیش کی گئیں بجائے اس کے کہ اس مسترد شدہ رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر مزید کام کیا جاتا اور کمیٹی کی طے کردہ سفارشات کے مطابق تفصیلی رپورٹ مرتب کی جاتی تاکہ مزید وقت ضائع کیے بغیر اسے آگے بڑھا یا جاتا ۔
جھنگ کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس سے بد قسمت ضلع مجھے پورے ملک میں نظر نہیں آتا جسے ہر دور حکومت میں نظر انداز کیا گیا حتیٰ کہ یہاں کے سرخیل قسم کے سیاستدانوں نے بھی اپنی مٹی کیساتھ وفا نہیں کی ذاتی پسند ناپسند اور مفادات کی سیاست نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔لیکن صرف سیاستدانوں کو قصور وار ٹھہرانا بھی زیادتی ہوتی یہاں کی عوام بھی کسی سے کم نہیں ہیں جنہوں نے کبھی بھی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ نہیں کیا کسی سے بے جاوفاداری اور دوسرے کی مخالفت کے نام پر مخصوص سیاستدانوں کو بار بار مواقع دیتے رہے جس کا نتیجہ ہم سب آج کل بھگت رہے ہیں اور مزید بھگتتے رہیں گے۔
لیہ ڈویژن بنانے کیلئے جھنگ کو ایک بار پھر تقسیم کرنے کا شور جب اسمبلی میں اٹھا تو یہاں کے منتخب نمائندوں کو ہوش آیا تو انہوں نے اسمبلی کےسیشن کے دوران اس پر آوازاٹھا ئی تاہم وہ اس قدر توانا نہ تھی کہ جس سے برسر اقتدار پارٹی رام ہو سکے کیونکہ حکومت کی جانب سے اس حوالہ سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا جس سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید اندر خانے یہ بات چل رہی ہے اور کسی بھی وقت دھماکہ ہو سکتا ہے حکومت پنجاب کی جانب سے کوئی واضح تردیدجاری نہ ہونے کے باعث یہاں کے عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ جھنگ کی مزید تقسیم اور اسکے حصہ بخرے کرنےپر بھرپور احتجاج کریں گے اب بھی آبادی اور جغرافیہ کے لحاظ سے جھنگ کو سب سے پہلے ڈویژن بنانا اس کا حق ہے ، جس کیلئے جھنگ ڈویثرن بناو تحریک کے رہنماوں کی جانب سے جدوجہد کو مزید تیز کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔تاہم جھنگ کے تمام سیاسی ،سماجی و کاروباری برادری کو آپس کے اختلافات بھلا کر اس اہم مسئلہ پر یک زبان ہونا ہوگا تاکہ ہم جھنگ ایسے تاریخی ضلع کو مزید تقسیم سے بچا کر ڈویژن کا درجہ دلوا سکیں۔

یہ تحریر مصنف کی ذاتی آراء اور تحقیق پر مبنی ہے جس سے دی جھنگ ٹائمز کا متفق ہونا ضروری نہیں

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos