728 x 90

آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان مارے گئے، ڈی جی آئی ایس پی آر

آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان مارے گئے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان کی مسلح افواج آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا مسلسل، موثر، فوری اور منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔  راولپنڈی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر رواں

پاکستان کی مسلح افواج آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا مسلسل، موثر، فوری اور منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔

 راولپنڈی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر رواں ماہ کی اکیس اور بائیس تاریخ کو پاکستان-افغانستان سرحد کے ساتھ فتنہ الخوارج، تحریک طالبان پاکستان کے تربیتی کیمپوں کو انتہائی مہارت سے نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت نے جو تمام دہشت گرد پراکسیوں کی سرپرست ہے، گزشتہ رات خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے ساتھ ترپن مقامات پر پندرہ سیکٹرز میں بلااشتعال فائرنگ کی اور حملے کئے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت نے یہ جارحیت ٹی ٹی پی کے تعاون اور ملی بھگت سے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلح کواڈ کاپٹروں، بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس تھے۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پاکستان نے بھرپور انداز میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ان تمام کارروائیوں کو ناکام بنایا بلکہ ان کے کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا۔

پاکستان کے ردعمل کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے احمد شریف چودھری نے کہا کہ آپریشن غضب للحق وزیراعظم کی ہدایت پر جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک افغان طالبان حکومت کے 274 اہلکاروں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے اور 400 سے زائد زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی 73 چوکیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جبکہ 18 چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں اور ہیڈ کوارٹر، فوجی تنصیبات اور اُن تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو مدد ملتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی جانب سے قندھار، پکتیا، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں 22 مقامات پر فضائی حملے بھی کئے گئے۔ ان تمام اہداف کا انتخاب خفیہ اطلاعات کی بنیاد پرانتہائی احتیاط سے کیا گیا۔

یہ وہ فوجی اہداف تھے جس کیلئے انتہائی احتیاط برتی گئی تاکہ شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ان اہداف میں کور، بریگیڈ، بٹالین اور سیکٹر ہیڈ کوارٹر، گولہ بارود کے ڈپو، افغان طالبان حکومت کی لاجسٹک بنیاد، پناہ گاہیں، دہشتگردوں اور ان کے معاونین کو تحفظ اور مدد فراہم کرنے والے مقامات شامل ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ان حملوں کے دوران افغان طالبان فورسز اور ان کے ہمراہ خوارج بھی کئی مقامات سے فرار ہو گئے اور اپنے ہلاک شدگان کی لاشیں پیچھے چھوڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا معاہدے کے مطابق ان لاشوں کو باعزت طریقے سے محفوظ کیا گیا ہے۔

افواج پاکستان کی قربانیوں کے حوالے سے احمد شریف چودھری نے کہا کہ آپریشن کے دوران پاکستان کے 12 سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا، 27 زخمی ہوئے جبکہ ایک فوجی کارروائی میں لاپتہ ہے۔

انہوں نے افغان طالبان حکومت سے کہاکہ وہ پاکستان اوردہشتگرد تنظیموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos