احمد پور سیال: مبینہ غلط آپریشن کے بعد 27 سالہ خاتون جاں بحق، لواحقین کا شفاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ
جھنگ : تحصیل احمد پور سیال میں مبینہ طور پر اتائی کے نجی کلینک میں آپریشن کے بعد 27 سالہ خاتون سائرہ بی بی جاں بحق ہوگئی۔ لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ…

جھنگ : تحصیل احمد پور سیال میں مبینہ طور پر اتائی کے نجی کلینک میں آپریشن کے بعد 27 سالہ خاتون سائرہ بی بی جاں بحق ہوگئی۔ لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ خاتون کو سرکاری ہسپتال سے مبینہ طور پر نجی کلینک منتقل کیا گیا، جہاں آپریشن کے بعد اس کی حالت بگڑ گئی، تاہم مناسب طبی سہولیات فراہم نہ ہونے کے باعث اسے دوسرے ہسپتال منتقل کرنے کا کہا گیا۔
جاں بحق ہونے والی سائرہ بی بی کے بھائی مدثر عباس اور خاوند اخلاق احمد نے گزشتہ روز پریس کلب جھنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سائرہ بی بی کو زچگی کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور سیال لے کر گئے تھے۔ لواحقین کے مطابق وہاں موجود خاتون اہلکار خزینہ بتول نے مبینہ طور پر سرکاری ہسپتال میں سہولیات کے فقدان اور ڈاکٹرز کی عدم توجہی کا جواز پیش کرتے ہوئے مریضہ کو اپنے نجی کلینک پر لے جانے کا مشورہ دیا۔
لواحقین کے مطابق نجی کلینک میں سائرہ بی بی کا آپریشن کیا گیا، تاہم آپریشن کے دوسرے روز اس کی حالت بگڑ گئی۔ ان کا الزام ہے کہ مبینہ طور پر طبی پیچیدگی پیدا ہونے کے بعد مریضہ کو کسی دوسرے ہسپتال منتقل کرنے کا کہہ کر ڈسچارج کر دیا گیا۔ بعد ازاں سائرہ بی بی کو دوبارہ ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور سیال لایا گیا، جہاں تشویشناک حالت کے باعث اسے نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا گیا۔
لواحقین نے بتایا کہ سائرہ بی بی کئی روز تک نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج رہنے کے بعد جانبر نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق سائرہ بی بی تین کمسن بچوں کی ماں تھی، جس کی ہلاکت سے خاندان میں کہرام برپا ہوگیا۔
لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ غفلت یا غیر قانونی طبی پریکٹس کے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ لواحقین نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ہسپتال سے مریضہ کو مبینہ طور پر نجی کلینک منتقل کیے جانے کے معاملے کی بھی مکمل تحقیقات کی جائیں۔


