728 x 90

افغان طالبان رجیم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں انسانی جرائم کا بدترین سلسلہ جاری

افغان طالبان رجیم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں انسانی جرائم کا بدترین سلسلہ جاری

بین الاقوامی جریدہ “دی گارڈین” کی تفصیلی رپورٹ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے ۔ افغان طالبان رجیم کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان خواتین کے لیے ایک غیر محفوظ ملک بن چکا ہے، دی گارڈین ۔ عینی شواہد اور متاثرہ خواتین کے بیانات طالبان رجیم

بین الاقوامی جریدہ “دی گارڈین” کی تفصیلی رپورٹ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے ۔

افغان طالبان رجیم کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان خواتین کے لیے ایک غیر محفوظ ملک بن چکا ہے، دی گارڈین ۔

عینی شواہد اور متاثرہ خواتین کے بیانات طالبان رجیم کے اس دعوے کو جھٹلاتے ہیں کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، دی گارڈین۔

رپورٹ کے مطابق جنوری 2022 میں زرمنہ زرمنہ اور دیگر خواتین نے طالبان کی بڑھتی پابندیوں کے خلاف کابل کی سڑکوں پر احتجاج کیا ۔

اس احتجاج کے بعد طالبان کے حامیوں نے ان خواتین کو سنگسار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے زرمنہ کے گھر پر دھاوا بول دیا۔

زرمنہ کو 27 دن قید میں رکھنے کے بعد افغان طالبان نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر دوبارہ بولیں تو ہم تمہارا گلا کاٹ دیں گے، دی گارڈین۔

زرمنہ کے بقول ہم صرف خواتین تھیں جو اپنے بنیادی حقوق مانگ رہی تھیں۔

زرمنہ برقعہ پہن کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور اس وقت جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہے، دی گارڈین۔

میں جرمنی میں بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں سمجھتی کیونک مجھے لگتا ہے کہ افغان طالبان میرے پورے خاندان کو سزا دیں گے ، زرمنہ ۔

عالمی سطح پر پیپلز ٹریبونل فار ویمن آف افغانستان کی رپورٹ کے مطابق؛

“متعدد افغان لڑکیاں غربت اور جبر کے باعث جبری شادیوں یا جنسی استحصال پر مجبور ہو رہی ہیں، جو افغانستان کے غیر محفوظ اور ناکام ہونے کی واضح علامت ہے”۔

ماہرین کے مطابق ؛”

دی گارڈین کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آتے ہی خواتین اور لڑکیوں کی زندگی میں آنے والی معمولی بہتری بھی راتوں رات ختم ہوگئی”

رپورٹ اس امر کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ ابتدا میں پرامن اور غیر منظم خواتین احتجاجی تحریک کو طالبان نے طاقت کے زور پر کچل دیا، ماہرین۔

دی گارڈین کی یہ رپورٹ محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ طالبان رجیم کے تحت افغانستان کی مجموعی ابتر صورتحال کی عکاسی کرتی ہے، ماہرین۔

خواتین کی آواز دبانا، پرامن احتجاج کو جرم بنانا اور خوف کے ذریعے معاشرے کو خاموش کرنا افغان طالبان رجیم کا معمول بن گیا ہے، ماہرین۔

یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ طالبان کے دعوں کے برعکس زمینی حقیقت سنگین انسانی حقوق کے بحران کی نشاندہی کر رہی ہے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos