افغان طالبان رجیم کا نیا فوجداری ضابطہ کسی قانونی دستاویز کے بجائے منظم جبر، خوف اور آمریت کی واضح علامت ہے۔ طالبان رجیم شفاف حکمرانی یا عوامی رائے کے بجائے زبردستی فیصلے مسلط کرنے کی روایت کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ یہ نیا ضابطہ خواتین، اقلیتوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے لیے خطرے
افغان طالبان رجیم کا نیا فوجداری ضابطہ کسی قانونی دستاویز کے بجائے منظم جبر، خوف اور آمریت کی واضح علامت ہے۔
طالبان رجیم شفاف حکمرانی یا عوامی رائے کے بجائے زبردستی فیصلے مسلط کرنے کی روایت کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
یہ نیا ضابطہ خواتین، اقلیتوں اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
امریکی جریدہ دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق، طالبان نے تشدد، دھمکی اور خوف کو قانون کی آڑ میں ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔
ضابطے کے نفاذ کے بعد افغان خواتین اور پناہ گزین شدید خطرات میں ہیں۔ طالبان کے فوجداری ایکٹ میں جبر، زبردستی اور سزا کو قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے۔
قابض ٹولہ اس قانون کے ذریعے افغانستان میں خوف، اطاعت اور مکمل کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، نیا فوجداری ضابطہ ناانصافی اور ریاستی جبر کو قانون کا لبادہ پہنا کر افغانستان کو دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا رہا ہے۔
نام نہاد افغان آئینی و فوجداری مسودہ در حقیقت انسانی مساوات، سماجی انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *