خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
جھنگ: موچیوالا کے چک نمبر 441 میں مبینہ فائرنگ کی ویڈیو پر ڈی پی او ساجد حسین کا نوٹس، پولیس نے 6 ملزمان حراست میں لے لیے، دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاریجھنگ: ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) عبدالرحمن کا ضلعی محکموں کے اجلاس اور شہر کے مختلف علاقوں کے اچانک دوروں میں ترقیاتی منصوبوں، صفائی آپریشن، سیوریج اور ہسپتال کی سہولیات کا جائزہ، بروقت تکمیل اور عوامی خدمات بہتر بنانے کی ہدایتجھنگ: ڈی پی او ساجد حسین کی زیرِ صدارت ٹریفک پولیس اجلاس، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، حادثات کی روک تھام اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے سخت احتساب کی ہدایتجھنگ میں یوتھ کلائمیٹ کانفرنس، 100 سے زائد طلبہ کی شرکت، دریائے چناب میں سیلاب، شدید گرمی، فضائی آلودگی اور کسانوں کے مسائل پر گفتگو، سفارشات نیشنل یوتھ اسٹیٹمنٹ 2026 میں شامل کی جائیں گینائب وزیراعظم کا برآمدات بڑھانے کے لیے مربوط حکومتی تعاون کے عزم کا اعادہحکومت کا ایس ایم ایز کی برآمدی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اعادہسہ ملکی کرکٹ سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے ہرا دیانگہداشت اور معاونت کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے
جھنگ

ایڈووکیٹ کامران شبیر کا اپنے خلاف درج مقدمہ پر ردِعمل، ایف آئی آر کو بے بنیاد قرار دے دیا

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جھنگ کے رکن کامران شبیر ایڈووکیٹ نے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں اپنے خلاف درج ایف آئی آر نمبر 999/26 کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا…

ایڈووکیٹ کامران شبیر کا اپنے خلاف درج مقدمہ پر ردِعمل، ایف آئی آر کو بے بنیاد قرار دے دیا

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جھنگ کے رکن کامران شبیر ایڈووکیٹ نے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں اپنے خلاف درج ایف آئی آر نمبر 999/26 کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمہ ایک مبینہ جعلی اور بوگس معاہدے کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز پریس کلب جھنگ میں اپنے خلاف کی جانے والی پریس کانفرنس کے جواب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کامران شبیر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ جس معاہدے کو ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بنیاد بنایا گیا ہے، وہ مبینہ طور پر جعلی اور بوگس ہے اور اسے مبینہ ملی بھگت سے 2022ء میں تیار کیا گیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ معاہدے کا علم ہونے پر انہوں نے اسے اسی سال عدالت میں چیلنج کردیا تھا، جبکہ مقدمے کے مدعی کی جانب سے عدالت میں دائر کیا گیا دعویٰ برائے تکمیلِ معاہدہ بھی 2023ء میں خارج ہوچکا ہے۔

کامران شبیر ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ معاملے کے تقریباً چار سال بعد مقامی پولیس نے مبینہ ملی بھگت سے ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے مقدمے کا سامنا کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ قانون اور عدالتوں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور تمام حقائق عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ ان شاء اللہ خود کو بے گناہ ثابت کرکے سرخرو ہوں گے۔

واضح رہے کہ مقدمے میں فریقین کے مؤقف اور الزامات کے بارے میں حتمی تعین عدالت اور تفتیشی عمل کے ذریعے ہی ہوسکے گا۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں