علماء ، مفتیان ، قرآء ، ائمہ ، مدرسین ، خطباء اور مبلغین جھنگ کے اتحاد علماء رابطہ کمیٹی جھنگ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحیم نقشبندی، شیخ الحدیث حضرت مولانا پیر حبیب اللہ نقشبندی ، امام القراء حضرت مولانا قاری محمد شفیق پانی پتی مسئولین وفاق المدارس العربیہ پاکستان جھنگ اور حضرت مولانا
علماء ، مفتیان ، قرآء ، ائمہ ، مدرسین ، خطباء اور مبلغین جھنگ کے اتحاد علماء رابطہ کمیٹی جھنگ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحیم نقشبندی، شیخ الحدیث حضرت مولانا پیر حبیب اللہ نقشبندی ، امام القراء حضرت مولانا قاری محمد شفیق پانی پتی مسئولین وفاق المدارس العربیہ پاکستان جھنگ اور حضرت مولانا سید مصدوق حسین شاہ بخاری امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ کی سرپرستی میں عرصہ دراز سے جھنگ میں اتحاد ویکجہتی اور امن وسکون کی فضا بنا رکھی علماء رابطہ کمیٹی میں جھنگ کے اکثر علماء کرام ، قراءعظام و مفتیان کرام شامل ہیں جن کی تعداد چار سو سے زائد ہے علماء رابطہ کمیٹی کے ذمہ داران حضرت مولانا عثمان مدنی، حضرت مولانا عمر دراز نہرا، حضرت مولانا قاری محمد طارق ، حضرت مولانا مفتی محمد اشرف ، حضرت مولانا عبد العلیم حقانی ، حضرت مولانا عبد المالک فاروقی ، حضرت مولانا عثمان طارق ،حضرت مولانا پروفیسر حافظ ناصر حسن عارفی و قاری خلیل احمد سالک نے ملک کی سنگین صورتحال پر پرعس کلب جھنگ میں صحافیوں کے ساتھ بھر پور پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کی تمام دینی تنظیموں، جماعتوں، تحریکوں اور اداروں سے بلا لحاظ مسلک و مشرب دردمندانہ اپیل کی کہ وہ پاک و انڈیا کشیدگی کے مسئلہ پر متحد اور متحرک ہو کر بیدار رہیں نیز ہم سول اور عسکری قیادت کو یقین دلاتے ہیں علماء رابطہ کمیٹی جھنگ وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدات کی حفاظت کے لیے سر پر کفن باندھ کر انڈیا اورملک دشمن عناصر کو ناکوں چنے چبوانے کے لیے تیار ہیں۔علماء جھنگ نے بھارت کے پاکستان پر حملہ کرنے مقدس مقامات پر میزائل فائر کرنے، لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کرنے اور کشمیر ی مسلمانوں پر ظلم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اگر بھار ت پاکستان پر دوبارا اٹیک کرتا ہے تو افواج پاکستان ایسا منہ توڑ جواب دے کہ ان کی توپوں کے منہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں۔ہم علماء جھنگ افواج پاکستان کے ساتھ ہر محاز پر شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔اقوام متحدہ انڈیا کی رات کےاندھیرے میں بزدلانہ حملے کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر عالمی معاشی پابندیاں عائد کرے
دینی مدارس کی رجسٹریشن محض دینی مدارس اور مساجد کے تحفظ کا نہیں بلکہ پاکستان میں دینی زندگی کے بقا اور موت و حیات کا مسئلہ ہے۔ مدارس وطن عزیز کے لیے بہت بڑی این جی او ہیں جو حکومت سے ایک روپیہ تک نہیں لیتے اور پندرہ لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کو قیام و طعام کے ساتھ اعلی تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں اس لیے مدارس عربیہ کو قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے کسی قسم کی اجازت سے مشروط کرنا سراسر زیادتی اور مدارس عربیہ کے ذمہ داران کو تنگ کرنے کے مترادف ہے بلکہ ضلعی انتظامیہ TMA کو ہدایات جاری کریں کہ مدارس عربیہ کے کھالیں اکٹھی کرنے کے کیمپ کے اردگرد صفائی کا خیال رکھا جائے اور مدارس کو کھالیں اکٹھی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے
فلسطینی مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا عالم اسلام پر فرض ہے مسلم حکمران اقوام متحدہ کے ذریعے اسرائیل اور اس کے حواریوں کو جنگ بندی پر مجبور کیاجائے یا پھر فلسطینیوں کو انسانی مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ اسرائیل کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی اسرائیلی ظلم پر خاموشی نے ان کے کردار اور رویہ پر سوالیہ نشان ثبت کر دیا ہے
علماءرابطہ کمیٹی جھنگ کی شوری کے ممبران حضرت مولانا حافظ بشیر احمد ، حضرت مولانا مفتی عبید اللہ رحیمی ، حضرت مولانا مفتی محمد رمضان ، حضرت قاری عبد الشکور ارشد ، حضرت مولانا غلام اللہ انور ، حضرت مولانا محمد سرور خان ،حضرت مولانا نجیب احمد ، حضرت مولانا عتیق الرحمن ، حضرت مولانا سعید منصوری ، ویگر علماء نے مشترکہ اعلامیہ کی بھر پور تائید کی ۔



















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *