(وحید ختر چوہدری سے ) رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آٹا، چاول، گھی، دالیں، بیسن، بیکری آئٹمز، پیاز، آلو اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے رمضان میں لوٹ مار کے لیے پہلے
(وحید ختر چوہدری سے ) رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آٹا، چاول، گھی، دالیں، بیسن، بیکری آئٹمز، پیاز، آلو اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے رمضان میں لوٹ مار کے لیے پہلے ہی بھاری مقدار میں اشیاء ذخیرہ کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقدس مہینے کو منافع کمانے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔
رمضان میں زیادہ استعمال ہونے والی اشیاء جن میں گھی، چاول، بیسن، چینی، دالیں، چنے، لہسن، پیاز، ادرک، فروٹ، کولڈ ڈرنکس، کھجوریں اور شربت شامل ہیں، ان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
خشک اشیاء کا بھاری ذخیرہ اس مقصد سے کیا گیا ہے کہ رمضان میں مہنگے داموں فروخت کی جا سکیں۔
مرغی اور انڈوں کی قیمتیں بھی بتدریج بڑھنا شروع ہو چکی ہیں۔
ضلع انتظامیہ نے رمضان کے لیے سرکاری ریٹ لسٹ تو جاری کر دی ہے، مگر اس پر عملدرآمد کون کروائے گا، یہ ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔
ریٹ لسٹ کے حوالے سے میٹنگز تو زور و شور سے ہو رہی ہیں لیکن ان میں کنزیومر کی کوئی نمائندگی شامل نہیں۔
جس پر صارفین میں شدید تحفظات اور بے چینی پائی جاتی ہے۔
بڑا گوشت، چھوٹا گوشت اور ان کے پارٹس کی قیمتیں بھی رمضان سے قبل ہی بڑھا دی گئی ہیں۔
پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اپنی ہی جاری کردہ لسٹ پر عملدرآمد کرانے میں اب تک ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
گلی محلوں اور عام بازاروں میں جہاں صارف خریداری کرتا ہے، وہاں کوئی مجسٹریٹ نظر نہیں آتا۔
لوٹ مار کھلے عام جاری ہے۔
سبزی منڈی میں آڑھتی اور پھڑی والے مارکیٹ کمیٹی کے مقرر کردہ نرخوں پر کبھی عمل نہیں کرتے۔
وہاں سے فروٹ اور سبزی خرید کر شہر میں ریڑھی والے ڈبل اور ٹرپل ریٹ پر فروخت کر رہے ہیں۔
خصوصاً تحصیل کے سامنے بازار، گندا ٹویا کے ساتھ بازار، اور ماڈل بازار کے اردگرد مہنگائی عروج پر ہے۔
دکاندار وزیراعلیٰ کی تصاویر آویزاں کر کے بھی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔
ضلع بھر میں تاجران کی مبینہ ساز باز سے دکانداروں اور ذخیرہ اندوزوں نے رمضان میں عوام کو لوٹنے کی مکمل تیاری کر رکھی ہے۔
ضلع انتظامیہ نے رمضان سے قبل بڑے دعوے تو کیے ہیں، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ ان پر کتنا عمل ہوتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ 10 روپے کی چیز 50 روپے میں بیچنے والے یہی لوگ نماز کے وقت اگلی صف میں کھڑے نظر آئیں گے۔
عوام اس دوغلے پن پر شدید غم و غصے کا شکار ہیں۔
جھنگ میں گھی کی چار بڑی ایجنسیاں رمضان کے لیے ٹنوں کے حساب سے گھی اور آئل ذخیرہ کر چکی ہیں۔
یہ ذخیرہ خفیہ گوداموں میں رکھا گیا ہے اور پورے رمضان میں من مانی قیمتوں پر فروخت کیا جاتا ہے۔
کسی پرائس کنٹرول مجسٹریٹ نے آج تک کسی ایجنسی ہولڈر کے خلاف کارروائی نہیں کی۔
افسران عدالت سے سٹے کا بہانہ بنا کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
غیر معیاری کراچی برانڈ گھی سے سموسے، پکوڑے اور دیگر اشیاء تیار کر کے عوام کو بیمار کیا جا رہا ہے۔
فوڈ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں نے آج تک کتنے سیمپل لیے اور کتنی دکانیں بند کیں، اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
یہ غیر معیاری گھی نہ صرف صحت کے لیے مضر ہے بلکہ بھاری منافع کا ذریعہ بھی بنا ہوا ہے۔
اداروں کی خاموشی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیٹی کے اراکین زرینہ شیخ، آصف منور، راؤ قمر ایڈووکیٹ، ملک فرحان علی، ملک اکمل اور صدر کمیٹی وحید اختر نے ایک خط کے ذریعے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ رمضان میں ذخیرہ اندوزوں، کریانہ فروشوں، آڑھتیوں اور گوشت فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی وفاقی خفیہ ادارے سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ حاصل کی جائے۔
تاکہ مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب شہر بھر میں غیر معیاری دودھ اور دہی کی دکانوں کی بھرمار ہو چکی ہے۔
سرکاری ریٹ 160 روپے فی کلو ہے، مگر مختلف بازاروں میں 130 سے 200 روپے تک دودھ فروخت ہو رہا ہے۔
اس دودھ میں زہریلے کیمیکل، کوکنگ آئل، یوریا، کھاد اور ایکسپائر خشک دودھ شامل کیا جا رہا ہے۔
صارفین نے اس سنگین مسئلے پر بھی وزیراعلیٰ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *