728 x 90

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری ہے۔ بحث میں حصہ لینے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے معاشی اعشاریوں میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اسحاق ڈار نے آج(بدھ) قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ خدمات پر سیلز ٹیکس صوبائی

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری ہے۔ بحث میں حصہ لینے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے معاشی اعشاریوں میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اسحاق ڈار نے آج(بدھ) قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ خدمات پر سیلز ٹیکس صوبائی حکومتوں کے دائرہ کار میں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وضاحت مالیاتی بل پر بحث سمیٹنے کی تقریر کے دوران دی جائے گی۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی مشاورت کے بعد بعض بجٹ تجاویز پر نظرثانی کی گئی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بجٹ میں سولر پینلز کے درآمدی آلات پر اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیاگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشاورت کے بعد اب اسے کم کرکے دس فیصد تک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھایا جارہا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹی نے قومی اسمبلی میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بہترین ممکنہ بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ فتح اللہ خان نے آبی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ذوالفقار علی بیہن نے زرعی ایمرجنسی کے نفاذاور زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے چھوٹے کاشتکاروں کی معاونت کرنے پر زور دیا۔

محمد مبین عارف نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسز پر انحصار سے عام آدمی شدید متاثر ہوتا ہے۔ چوہدری ریاض الحق نے یقین ظاہر کیا کہ بجٹ سے معیشت مستحکم ہوگی۔ ساجد مہدی نے زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبے میں تیار مصنوعات کی ضرورت پر زور دیا۔ مہتاب اکبر راشدی نے فیملی پنشن کی دس سال کی حد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہ احد نے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں کمی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اسے مزید کم کیا جائے۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے قرت العین مری نے سولر پینلز اور الیکٹرک کاروں جیسے کم آمدنی والے طبقے کو متاثر کرنے والے شعبوں پر ٹیکس کے نفاذ پر تنقید کی، انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترجیح دینے پر زور دیا اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی نہ کرنے اور بجٹ میں کمی پر تنقید کی۔ شاہ زیب درانی نے کہا کہ بجٹ نے آئی ٹی، کرپٹو اور صنعتی ترقی کے لیے مراعات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معیشت کی بہتری کی سمت متعین کی ہے۔ دنیش کمار نے اقلیتوں کے لیے بجٹ میں مختص رقم میں اضافہ کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے اقلیتوں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کرنے اور ان کے مذہبی مقامات کے فروغ کے سلسلے میں پنجاب، بلوچستان اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا۔

شیری رحمان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے بجٹ میں کمی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوا ہے۔منظور احمد نے بجٹ میں تعمیراتی شعبے کیلئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے اس شعبے کی ترقی ہوگی۔ راجہ ناصر عباس نے زرعی شعبے کو ترقی دینے اور کسانوں کی سہولت کیلئے اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا۔ بجٹ بحث میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ بجٹ کو عام آدمی اور تاجر برادری نے بڑی حد تک سراہا ہے۔سینٹ کے ارکان پلوشہ خان، کامل علی آغا، افنان اللہ خان، زرقہ سہروردی، احمد خان، سرمد علی، فوزیہ ارشد اور سردار محمد عمر گورگیج نے بھی بحث میں حصہ لیا۔سینٹ کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے دوبارہ ہوگا۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos