لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی کو شورکوٹ کے نواحی علاقے اللہ یار جوتا میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر فضا سوگوار رہی اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ متوفیہ سعدیہ کے شوہر غلام مرتضیٰ
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی کو شورکوٹ کے نواحی علاقے اللہ یار جوتا میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر فضا سوگوار رہی اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
متوفیہ سعدیہ کے شوہر غلام مرتضیٰ نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے سے متعلق کئی سنگین انکشافات کیے۔ غلام مرتضیٰ نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے فوری اقدامات اور نوٹس لینے پر ان کا شکر گزار ہے، تاہم ان کے مطابق مالی امداد کسی بھی صورت ان کے زخموں کا مداوا نہیں کر سکتی۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ
“مجھے ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں، ایک کروڑ روپے سے میرے بچوں کو ان کی ماں واپس نہیں مل سکتی۔”
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریسکیو 1122 نے ابتدائی طور پر ان کی بیوی اور بیٹی کے گٹر میں گرنے کے واقعے کو جعلی قرار دیا، جس سے حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی۔ غلام مرتضیٰ نے مزید بتایا کہ انہیں تھانہ میں ایس ایچ او زین نے تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ تشدد کے دوران ایس پی بلال بھی موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے قتل کا اعتراف کرے، جبکہ انہوں نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی کہ وہ سیف سٹی کیمروں میں نظر نہیں آئے، حالانکہ بعد میں یہ مؤقف غلط ثابت ہوا۔
غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ جب انہوں نے واقعے کے حقائق ڈی آئی جی کے علم میں لائے تو ڈی آئی جی نے ماتحت افسران کو ڈانٹ پلائی، تاہم اس کے بعد ایس ایچ او کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں۔
واقعے کے بعد شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سانحے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہو اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے، تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اس طرح کے المیے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *