موسمیاتی تبدیلیوں کے زبانوں پر اثرات، پاکستان کی کون سی زبانیں متاثر ہوسکتیں ہیں
موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ ہمارے آج کےدور کے مسائل میں سرفہرست اور ان پر بہت بات کی جارہی ہے ۔ جب موسمیاتی تبدیلی پر بات چیت ہوتی ہے تو عموماً عالمی حدت، حیاتیاتی…

موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ ہمارے آج کےدور کے مسائل میں سرفہرست اور ان پر بہت بات کی جارہی ہے ۔ جب موسمیاتی تبدیلی پر بات چیت ہوتی ہے تو عموماً عالمی حدت، حیاتیاتی تنوع کا نقصان، اور قدرتی آفات جسیے موضوعات زیر بحث آتے ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلی کے گرد گفتگو میں ایک اور موضوع بھی توجہ کا مستحق ہے وہ ہے لسانی تنوع کا نقصان۔
موسمیاتی تبدیلی نہ صرف ہماری کرہ ارض کے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے لسانی تنوع کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہاں پر ہم اس امر کا جائزہ لینے کی کوشش کرینگے کہ موسمیاتی تبدیلی اور زبان کس طرح قریب سے جڑے ہوئے ہیں اور موجودہ موسمیاتی بحران کے پیش نظر زمین کے لسانی تنوع کی حمایت کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں اس پر بات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا میں تقریبا 7,000 زبانیں بولی جاتیں لیکن ان میں سے 50 فیصد سے زائد اس صدی کے آخر تک ختم ہونے کے خطرات سے دوچار ہیں۔ جیسے جیسے ماحول لسانی طور پر متنوع علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے زیادہ مخصمانہ ہوتا جا رہا ہے ساحلی علاقوں میں سمندری سطح کے بڑھنے سے لے کر صحرائی علاقوں میں شدید خشک سالی تک موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی نقل مکانی ان زبانوں کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں ۔ موسمیاتی تبدیلی اور زبان اتنے ہی قریب سے جڑے ہوئے ہیں جتنے کہ موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع۔ ماہرین پیش گوئی کرتے کہ موسمیاتی تبدیلی کرۂ ارض کے حیاتیاتی تنوع پر تباہ کن اثرات ڈالے گی (مثال کے طور پر، 2020 کی ایک تحقیق میں پیش گوئی کی گئی ہےکہ موسمیاتی تبدیلی آئندہ نصف صدی میں دنیا کی ایک تہائی پودوں اور جانوروں کی انواع کے معدوم ہونے کا باعث بن سکتی ہے)، اسی طرح موسمیاتی تبدیلی کا لسانی تنوع پر بھی منفی اثر پڑنے کا امکان ہے۔
دنیا بھرمیں بولی جانے والی زبانوں کے وجود کو بہت سے خطرات لاحق ہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً 7000 زبانوں میں سے اکثریت (95 فیصد) صرف پانچ فیصد آبادی کے ذریعے بولی جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ تر زبانیں بہت کم تعداد میں لوگوں کے ذریعے بولی جاتی ہیں، لہٰذا ان بولنے والوں کے رہائشی علاقوں، روزگار یا ثقافت کی کسی بھی قسم کی تباہی کسی زبان کو خطرے کی طرف دھکیل سکتی ہے اور ممکنہ طور پر اس کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں بڑھتی ہوئی عالمی سطح پر انحصار، جو ممالک اور افراد کو اقتصادی وجوہات کی بنا پر قومی یا بین الاقوامی زبانوں کی طرف مائل کرتا ہے تعلیمی نظام اور میڈیا میں علاقائی زبانوں کی عدم حمایت حکومتوں کی طرف سے اقلیتی لسانی گروہوں پر ظلم و ستم،جنگ اور ہجرت کے دوران کمیونٹیز کا انتشاراس کے اسباب ہوسکتے ہیں۔
کسی خاص زبان کے مستقبل کی پیش گوئی کرنا مشکل ہےجب کہ کچھ اقلیتی زبانیں آنے والی نسلوں تک پھلتی پھولتی رہیں گی لیکن دنیا کی بہت سی زبانیں ایک نسل کے اندر معدومیت کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
ایک ایسا دباؤ جو کچھ کمیونٹیز کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے وہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ بہت سی چھوٹی لسانی کمیونٹیز جزائر اور ساحلی علاقوں میں واقع ہیں جو سمندری طوفانوں اور سمندری سطح میں اضافے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ دیگر کمیونٹیز ایسی زمینوں پر آباد ہیں جہاں درجہ حرارت میں اضافے اور بارش کے اتار چڑھاؤ سے روایتی کاشتکاری اور ماہی گیری کے طریقے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
یہ تبدیلیاں کمیونٹیز کو نقل مکانی پر مجبور کر دیں گی جس سے موسمیاتی تبدیلی کے مہاجرین پیدا ہوں گے۔ لوگوں کے اس بکھراؤ سے لسانی کمیونٹیز تقسیم ہو جائیں گی اور دیگر زبانوں سے زیادہ رابطہ ہو گا۔ یہ تبدیلیاں ان زبانوں پر اضافی دباؤ ڈالیں گی جو پہلے ہی زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
جب کوئی زبان ختم ہو جاتی ہے تو اس کا نتیجہ شناخت کے نقصان کی صورت میں نکلتا ہے جو آنے والی نسلوں تک کسی کمیونٹی کی صحت اور توانائی کو متاثر کر سکتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والی مقامی کمیونٹیز دہائیوں سے جاری ظلم و ستم اور امتیازی سلوک، رہائشی اسکولوں کی صدمے بھری میراث، اور ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، اور بنیادی ڈھانچے تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ، یہ کمیونٹیز اپنی زبانوں کی بحالی میں نمایاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جنہیں ماضی کے زخموں کو بھرنے اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ان مشکلات سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ ہجرت کا انتخاب کرتے ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی نقل مکانی کے بارے میں ایک اندازے کے مطابق 2050 تک یہ تعداد 200 ملین تک پہنچ جائے گی۔
ہجرت بذات خود زبان کے خاتمے کا سبب نہیں بنتی۔ تاہم، جب کوئی زبان کسی کمیونٹی میں غالب نہیں ہوتی، تو زبان پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، اور زبان کے بارے میں منفی تاثرات اور بولنے والوں کے درمیان پائی جانے والی نابرابریاں اس زبان کے زوال کا سبب بنتی ہیں اور اس کی بقا کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔
بحرالکاہل دنیا کی ایک تہائی زبانوں کا گھر ہے، جہاں تقریباً 1,200 آسٹرونیشین اور 840 پاپوا زبانیں بولی جاتی ہیں۔ بحرالکاہل ایک منفرد خطرے کا سامنا کر رہا ہے، جو دنیا کی زبانوں کے تناظر میں خاص ہے چھوٹے جزائر اور اٹولز کی ماحولیاتی تباہی، جو لوگوں کی نقل مکانی اور اس کے نتیجے میں زبان اور ثقافت کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ آئیے دو مثالوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
حالیہ ایک آسٹرونیشین زبان ہے جو کارٹیٹ جزائر میں 2,500 افراد کے ذریعے بولی جاتی ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے چھ جزائر بوگن ویل جزیرے کی مین لینڈ سے 86 کلومیٹر دور واقع ہیں۔ اٹولز کی بہت چھوٹی زمینی حدود (0.6 مربع کلومیٹر) اور کم بلندی (بلند ترین مقام پر سطح سمندر سے صرف 1.2 میٹر) کی وجہ سے سمندری سطح میں اضافہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ 1970 کی دہائی سے ہی نقل مکانی کے بارے میں بات چیت اور بڑے پیمانے پر ہجرت کی کئی کوششیں ہو چکی ہیں۔
حالیہ بوگن ویل جزیرے کی مین لینڈ کے ایک علاقے میں بھی بولی جاتی ہے، جہاں تقریباً 17,500 لوگ اس زبان کو اپنی مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ یہ صورتحال کو منفرد بناتی ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ کارٹیٹ جزیرے کے رہائشیوں کو ایک ایسی جگہ منتقل ہونے کا موقع ملتا ہے جہاں ان کی زبان پہلے سے بولی جاتی ہے۔ اس لیے اگرچہ جزائر کے رہنے کے قابل نہ ہونے کا خطرہ موجود ہے، لیکن زبان خود اتنے بڑے خطرے میں نہیں ہے کیونکہ یہ مین لینڈ پر بھی زندہ ہے۔
اس کے برعکس، ٹوکیلوئن ایک خطرے سے دوچار زبان ہے جو ٹوکیلو جزائر میں تقریباً 1,500 افراد کے ذریعے بطور غالب زبان بولی جاتی ہے۔ یہ تین اٹولز پر مشتمل ہیں جن کا مجموعی رقبہ 12 مربع کلومیٹر ہے۔ یہاں موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ 1990 کی دہائی سے نازک سمجھا جا رہا ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافہ ہو چکا ہے، اور طوفانوں جیسے شدید موسمی واقعات کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوا ہے، جو خود ان اٹولز کے وجود کے لیے خطرہ ہیں۔
پاکستان کے ضلع سوات میں بولی جانے والی زبان توروالی بھی خطرات سے دوچار ہے ۔ توروالی، جو انڈو آرین خاندان کی ایک دردی زبان ہے، شمالی پاکستان کے ضلع سوات کے بحرین اور چیل علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق توروالی بولنے والے افراد کی تعداد 120,000 سے زیادہ ہے
جولائی 2024 میں ڈائیلاگ ارتھ میں فواد علی کی شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 2010 کے آنے والا سیلاب پاکستان کی تاریخ کی بدترین انسانی آفات میں سے ایک تھا، جس کی وجہ سے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے شمالی پہاڑی علاقوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔ توروالی زبان بولنے والے بہت سے خاندان بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنا گھر کھو دیا ان کے کھیت سیلاب کی زد میں آ گئے، جس کی وجہ سے ان خاندانوں کو اپنے آبائی شہر، ضلع سوات سے 59 کلومیٹر دور پشتون اکثریتی مینگورہ شہر میں ہجرت کرنی پڑی۔
اس آفت کے اثرات آج بھی برقرار ہیں ان میں سے ایک سب سے واضح اثر ان کی بولی جانے والی زبان توروالی کو لاحق خطرہ ہے۔ شہروں کی طرف ہجرت کرنے والے نوجوان اب یا تو توروالی کے کسی مختلف لہجے میں بول رہے ہیں، جس میں غالب زبانوں پنجابی، پشتو اور اردو سے لئے گئے بہت سی الفاظ شامل ہیں، اور اب توروالی خاندان بالکل بھی اس زبان میں بات نہیں کر سکتے وہ لوگ اب پشتو بولتے ہیں، جو صوبے کی عام بولی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے پہاڑی کمیونٹیوں کو بے خبری میں جکڑ لیا ہے، جن کے پاس اس بحران کی شدت کا اندازہ کرنے کے لیے نہ کوئی تعلیم ہے اور نہ ہی اس سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی۔ خیبر پختونخوا کی موسمیاتی حکمت عملی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی نقل مکانی کو تسلیم کرتی ہے، لیکن اس کی موافقتی حکمت عملی صرف بہتر شہری منصوبہ بندی جیسے اقدامات تک محدود ہے تاکہ آنے والے مہاجرین سے نمٹا جا سکے۔ دونوں میں سے کوئی بھی یہ تسلیم نہیں کرتا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی نقل مکانی شمالی پاکستان کی ثقافتوں اور زبانوں پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔
پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں کی 30 سے زائد زبانیں خطرات سے دوچار ہیں ۔ دشوار گزار علاقوں کی وجہ سے ان زبانوں کو بہت کم تعداد میں لوگ بولتے ہیں، جو ہزاروں سے بھی کم تعداد میں ہوتے ہیں۔ یہی جغرافیہ ان کمیونٹیز کو موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی متعدد آفات کے سامنے بھی کمزور بناتا ہے۔ چترال کا ضلع جہاں 500 سے زیادہ گلیشیئرز ہیں، 2021 تک یہ علاقہ 13 سے زیادہ گلیشیائی سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے، جس کی وجہ سے کئی خاندانوں کو بے گھر ہونا پڑا اور انہیں برسوں تک عارضی پناہ گاہوں میں رہنا پڑا۔ گلگت بلتستان میں 1999 سے 2017 تک 15 گلیشیائی سیلابوں کے واقعات ریکارڈ کیے گئے جس میں 2010 کا سیلاب بھی شامل ہے۔
ان آفات کا چھوٹی آبادیوں میں بولی جانے والی زبانوں پر اثر بہت زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر، جب 2018 میں گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے بادسوات گاؤں میں گلیشیائی سیلاب آیا، تو اس نے وخی زبان بولنے والے خاندانوں کو گلگت شہر میں نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔ وخی زبان دنیا بھر میں صرف تقریباً 40,000 افراد بولتے ہیں، اور یہ گلگت شہر کی عام زبان نہیں ہے، جہاں ان نئے آنے والوں کو بنیادی طور پر شینا یا پاکستان کی سرکاری زبان اردو میں بات چیت کرنا سیکھنا پڑی۔
لیکن خود شینا زبان بھی انہی عوامل کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہے۔ گلگت کے زبانوں کے محقق محمد وزیر بیگ کے مطابق ان کئی رشتہ دار، جنہوں نے 1978 اور 2010 کے سیلابوں میں اپنے گھر کھو دیے تھے، کراچی منتقل ہو چکے ہیں۔ جب انہوں نے کچھ عرصہ قبل ان سے ملاقات کی، تو انہوں نے انہیں شینا کے بجائے اردو بولتے پایا۔
موسمیاتی تبدیلی صرف بایوڈائیورٹی اور ہمارے ماحولیاتی نظام کے لیے ہی خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ زبان کی تنوع پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ اگر اقدامات نہ کئے گئے تو 2100 تک دنیا کی 50 سے 90% زبانوں کے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر مقامی اور اقلیتی زبانیں بہت زیادہ خطرات سے دوچار ہیں ۔موسمیاتی تبدیلی کے خلاف زبان کی تنوع کو فروغ دینے کے لئے زبانوں کی ثقافتی ترقی کے پروگراموں اور سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہوگا، مقامی زبانوں کو فروغ دینا ہوگا ایسی قانون سازی کی جانی چاہئے کہ جو زبانوں کے انصآف کو اجاگر کرے اور کم وسائل والی زبانوں کے لئے ترجمہ اور تشریح کی خدمات کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی تبدیلی مختلف سماجی اور ثقافتی مسائل کو متاثر کررہی ہیں لہذا موسمیاتی تبدیلی کے زبانوں پر اثرات کو اجاگر کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے اگرچہ مختلف ادارے کام کررہے ہیں لیکن یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے یہاں بیان کردہ چند مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی، زبانوں اور موسمیاتی تبدیلی کی ہجرت کے درمیان تعلق ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ امید ہے کہ زبان پر ہونے والی تحقیق پالیسی سازوں میں ایک بحث کا آغاز کرے تاکہ مقامی زبانوں کو بھی رہائش گاہوں، ثقافتوں اور معاش کے تحفظ کے برابر اہمیت دی جائے۔


