728 x 90

وزیراعظم کی ساڑھے چونتیس ارب روپے کی ریکوری پر متعلقہ وزراء و افسران کی پزیرائی

وزیراعظم کی ساڑھے چونتیس ارب روپے کی ریکوری پر متعلقہ وزراء و افسران کی پزیرائی

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دورہ سعودی عرب سے واپسی کے فوراً بعد ایف بی آر کی کارکردگی پر اسلام آباد میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور 34.5 ارب روپے کی ریکوری پر متعلقہ وزراء و افسران کی پزیرائی کی،وزیراعظم نے مستقل نظام کی تشکیل کیلئے لائحہ عمل بھی طلب کرلیا۔ اجلاس میں

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دورہ سعودی عرب سے واپسی کے فوراً بعد ایف بی آر کی کارکردگی پر اسلام آباد میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور 34.5 ارب روپے کی ریکوری پر متعلقہ وزراء و افسران کی پزیرائی کی،وزیراعظم نے مستقل نظام کی تشکیل کیلئے لائحہ عمل بھی طلب کرلیا۔

اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ٹیکس کے حوالے سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات اور ریکوری کے حوالے سے اقدامات سمیت دیگر متعلقہ امور پر بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ  قومی خزانے کو 34.5 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے پر مجھ سمیت پوری قوم آپکی مشکور ہے، فیصلے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ریکوری قابل ستائش اقدام ہے، ایسے بہترین نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ محنت و لگن سچی ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے،یہ تاریخی کام آپ جیسی محنتی ٹیم کے ساتھ ہی ممکن تھا. 

محمد شہباز شریف نے کہا کہ 34.5 ارب کی ریکوری ایک اچھی شروعات ہے لیکن ابھی ہمارا سفر شروع ہوا ہے، ہمیں مستقل بنیادوں پر ایک پائیدار نظام تشکیل دینا ہے، دہائیوں کی خرابیوں کو ہمیں مل کر ٹھیک کرنا ہے.

انہوں نے  ایف بی آر کی ریکوریوں کے حوالے سے مستقل بنیادوں پر مربوط قانونی ڈھانچہ تشکیل دینے اور اصلاحات و ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے سلسلے میں لائحہ عمل تشکیل  دینے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی افرادی قوت کی بہتری کیلئے ایک پلان تشکیل دیا جائے، سو فیصد ڈیجیٹائیزیشن، تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن اور مسلسل نگرانی سے ہی نظام میں بہتری آئے گی، ایسے افسران و اہلکار جو کسی بھی قسم کی خرد برد میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف بھرپور کاروائی عمل میں لائی جائے، اچھی کارکردگی والے افسران و اہلکاروں کی ستائش بھی یقینی بنائی جائے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگر ہمیں پاکستان کی تقدیر کو بدلنا ہے تو نظام میں مستقل بنیادوں پر تبدیلی نا گزیر ہے، عوام کی ایک ایک پائی کی حفاظت کیلئے جس قدر ہوسکا، کوشش کریں گے۔

وزیرِ اعظم نے چیئرمین ایف بی کی جانب سے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے مستقل بنیادوں پر ایک مربوط نظام کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دے کر پیش کرنے کی ہدایت کی.

وزیرِ اعظم نے وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیرِاعظم ڈاکٹر سید توقیر شاہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوصال، سیکریٹری اطلاعات عنبرین جان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، ڈائیریکٹر جنرل انٹیلیجینس بیورو فواد اسد اللہ خان، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے جان محمد اور متعلقہ تمام افسران کی اس تاریخی ریکوری کیلئے اقدامات پر خصوصی تعریف کی۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos