728 x 90

وفاقی حکومت نے 17 ہزار 573 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا

وفاقی حکومت نے 17 ہزار 573 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا

آئندہ مالی سال کے سترہ ہزار پانچ سو تہتر ارب روپے مجموعی حجم کے وفاقی بجٹ کا اعلان کردیا گیا جس میں مجموعی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آج شام (منگل) قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کی بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا

آئندہ مالی سال کے سترہ ہزار پانچ سو تہتر ارب روپے مجموعی حجم کے وفاقی بجٹ کا اعلان کردیا گیا جس میں مجموعی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آج شام (منگل) قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کی بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ مسابقتی معیشت کے فروغ کے لئے وضع کی گئی حکمت عملی کا نقطہ آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ تجاویز میں ادائیگیوں کے عدم توازن سے بچنے اور معاشی پیداوار کے فروغ کے لئے برآمدات کے فروغ اور غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ حکمت عملی کا مقصد ملکی معیشت میں بنیادی تبدیلیاں لاناہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ مجموعی آمدن کا تخمینہ گیارہ ہزار بہتر ارب روپے لگایا گیا ہے۔ایف بی آر کی محصولات چودہ ہزار ایک سو اکتیس ارب روپے رہنے کا امکان ہے یہ رقم موجودہ مالی سال کے مقابلے میں اٹھارہ اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہے اور نان ٹیکس محاصل پانچ ہزار ایک سوسینتالیس ارب رہیں گے۔انہوں نے کہا وفاق کی آمدن میں صوبوں کا حصہ آٹھ ہزار دوسو چھ ارب روپے رہے گا۔ ۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اگلے سال میں جی ڈی پی شر ح نمو چاراعشاریہ دو فیصد اور مہنگائی کی شرح سات اعشاریہ پانچ فیصد رہنے کی توقع ہے۔بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا تین اعشاریہ نو فیصد جبکہ ابتدائی فاضل جی ڈی پی کا دو اعشاریہ چارفیصد رہے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کا دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قومی خدمت کیلئے دوہزار پانچ سو پچاس ارب روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے نوسو اکہتر ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں جبکہ پنشن اخراجات کیلئے ایک ہزار پچپن ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی اور دوسرے شعبوں پر اعانت کیلئے گیارہ سو چھیاسی ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ محمداورنگزیب نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام آزاد جموں وکشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے گرانٹس کی مد میں ایک ہزار نو سو اٹھائیس ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے کفالت پروگرام کے دائرئہ کار کو ایک کروڑ خاندانوں تک توسیع دی جائے گی۔ تعلیمی وظائف پروگرام کو توسیع دی جائے گی تاکہ ایک کروڑ بیس لاکھ طلباء اس سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال میں بی آئی ایس پی کیلئے سات سو سولہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اخراجات میں سے آزاد جموں وکشمیرکیلئے ایک سو چالیس ارب روپے، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے 80، 80ارب روپے اور بلوچستان کیلئے اٹھارہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

صارفین تک سستی اور پائیدار توانائی کی فراہمی کے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ توانائی کے شعبے میں سینتالیس ترقیاتی سکیموں کے لئے نوے ارب بیس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس رقم کا بڑا حصہ پن بجلی منصوبوں کے ذریعے بجلی کی فراہمی پر خرچ کیا جائے گا۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ وزیراعظم نے ہمیشہ تنخواہ دار طبقے پرٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کی آمدن پر تمام ٹیکسSLABSمیں کئی تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔انہوں نے کہاکہ چھ سے بارہ لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ملازمین پر ٹیکس کی شر ح موجودہ پانچ فیصد سے کم کرکے ڈھائی فیصد کر دی گئی ہے۔ سالانہ بارہ لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ملازمین پر موجودہ تیس ہزارروپے کا ٹیکس کم کرکے چھ ہزار روپے کر دیا گیاہے۔ سالانہ بائیس لاکھ روپے تک کے تنخواہ دارملازمین پرٹیکس پندرہ فیصد سے کم کرکے گیارہ فیصد کرنے کی تجویزہے۔ اس کے علاوہ بائیس لاکھ سے بتیس لاکھ روپ تک تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کرکے23 فیصد کرنے کی تجویزہے۔ حکومت نے ایک کروڑ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے افراد پرسرچارج کو بھی ایک فیصد کم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ انتہائی پیشہ ورانہ باصلاحیت افراد کی بیرون ملک منتقلی کو روکا جاسکے۔ کارپوریٹ شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے اقدامات کے بارے میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ سپرٹیکس میں اعشاریہ پانچ فیصدکی کمی ان کارپوریشنوں کے لئے تجویز کی گئی ہے جن کی آمدن بیس کروڑ سے پچاس کروڑروپے سالانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس رعایت سے کارپوریٹ سیکٹر کا تناسب معقول بنانے کیلئے حکومت کے عزم کا اظہار ہوتاہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس چار فیصد سے کم کرکے دواعشاریہ پانچ فیصد اور تین اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کرکے دو اعشاریہ پانچ فیصد اور تین فیصد سے کم کرکے ایک اعشاریہ پانچ فیصد کیا جارہا ہے۔ کم لاگت کے مکانات پر قرضے کی فراہمی کی خاطر رہن رکھنے کی حوصلہ افزائی کے لئے دس مرلے تک کے مکانات اور دو ہزار مربع فٹ کے فلیٹوں کے لئے ٹیکس کریڈٹ کا اجراء کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت رہن کے تحت سرمایہ کاری کو فروغ دے گی اور اس سلسلے میں جامع طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے میں جائیداد کی خریداری کیلئے سٹامپ پیپر ڈیوٹی چار فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کر دی جائے گی تاکہ مکانات کی قلت دور کی جاسکے۔ انہوں نے یقین ظاہرکیا کہ ان اقدامات سے مکانات کی تعمیر کے شعبے کو فروغ ملے گا اور یہ ملک کی اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرسکے گا۔

وزیر خزانہ نے زراعت کے شعبے میں دس جاری اور نئی پانچ سکیموں کے لئے چارارب روپے مختص کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپاس اور افزائش حیوانات کے شعبوں کی بحالی پر بھی خصوصی زور دیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی منصوبے کے لیے چار ہزار دو سو چوبیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس میں ایک ہزار ارب روپے کا وفاقی پی ایس ڈی پی دو ہزار آٹھ سو انہتر ارب کے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام اور سرکاری اداروں کیلئے تین سو پچپن ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ شامل ہے۔ سالانہ ترقیاتی منصوبے میں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کو آگے بڑھانے،ادارہ جاتی مشکلات پر قابو پانے، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت میں اضافے اور صحت اور تعلیم تک رسائی بہتربنانے کیلئے عوامی سرمایہ کاری پر زور دیا گیا ہے۔

سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام دوہزار پچیس چھبیس کو اڑان پاکستان پروگرام کے مقاصد سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، جبکہ اس میں غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے تکمیل کے قریب اہم منصوبوں اور قومی اہمیت کے نئے اقدامات کو ترجیح دی گئی ہے۔بجٹ میں میگا پراجیکٹس کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ سال کے دوران ان منصوبوں کی پیش رفت متاثر نہ ہو۔ ان منصوبوں میں N-25 کوئٹہ-کراچی، سکھر حیدرآباد موٹروے M-6، داسو پن بجلی منصوبہ، دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ، مہمند ڈیم، کے فوراور کراچی کے پانی میں اضافے کے منصوبے، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور کراچی اور اسلام آباد آئی ٹی پارک کو بجلی کی فراہمی اور سندھ میں سیلاب کے بعد گھروں اور اسکولوں کی تعمیرنو، بلوچستان میں دوہزار بائیس کے سیلاب کے بعد بحالی پروگرام، تھر کول ریل کنیکٹیویٹی، اسلام آباد میں کینسر ہسپتال کی تعمیر اور ہیپاٹائٹس سی اور ذیابیطس پرقابو پانے کیلئے وزیراعظم کا قومی پروگرام شامل ہیں۔موجودہ ترقیاتی ایجنڈے کے تحت کلیدی نئے اقدامات اور بنیادی منصوبوں میں N-5 فیزون، ماشخیل-پنجگور روڈ اور گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کے دوسرے مرحلے کی توسیع اور بہتری کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبے شامل ہیں۔پاکستان MANNEDاسپیس مشن اور پاکستان LUNARایکسپلوریشن روور کے ذریعے خلائی سائنس میں اسٹریٹجک ترقی کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔

کلیدی شہری اور صنعتی منصوبوں میں کراچی انڈسٹریل پارک کی ترقی اور سیف سٹی اسلام آباد کی توسیع شامل ہے۔ خصوصی علاقوں کی ترقیاتی ضروریات تسلیم کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام 2025-26 میں مرکزی اہمیت حاصل ہے جس پر وسائل کا ساٹھ فیصد خرچ کیا جائے گا تاکہ پورا ملک اس سے مستفید ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سماجی شعبے پرخصوصی توجہ دی گئی ہے جس پر مختص رقم کا ساٹھ فیصد خرچ کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جاری اور نئے اقدامات کو اڑان پاکستان اور قومی اقتصادی تبدیلی منصوبے سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں جو فائیوایز پرمبنی ہیں۔ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام دوہزار پچیس چھبیس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ ایک ہزارارب روپے میں سے سب سے زیادہ تین سو اٹھائیس ارب روپے ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے انفراسٹرکچر منصوبوں پر بھی بجٹ میں خصوصی زور دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر آٹھ سو تیرہ کلومیٹر طویل کراچی چمن شاہراہ کو دورویہ کرنے کیلئے سو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سکھر حیدرآباد موٹروے کے لئے پندرہ ارب روپے اور تھرکول ریل Connectivity منصوبے کے لئے سات ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بحری شعبے کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ گڈانی میں بحری جہاز توڑنے کی صنعت میں سہولیات کوبہتر بنانے کو ترجیح دی گئی ہے اور اس مقصد کیلئے ایک ارب نوے کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی سے گوادر بندرگاہ کے انفراسٹرکچر منصوبوں میں معاونت جاری رہے گی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے صوبائی منصوبوں میں بھی تعاون کیا جائے گا اور اس مقصد کے لئے خاطرخواہ فنڈز مختص کئے جائینگے۔ حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے پانی کوبطور ہتھیار استعمال کرنے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب پانی کے بہائومیں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا پاکستان بھارت کے مذموم عزائم کا جواب دے گا اور یہ بات بھی اہم ہے کہ اپنے آبی ذخائر میں جنگی بنیادوں پراضافہ کیا جائے۔ وزیرخزانہ نے نشاندہی کی کہ گزشتہ برس59 میں سے 34 آبی منصوبے 295 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیے گئے۔ انہوں نے کہا اس سال آبی وسائل ڈویژن کیلئے133 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا دیامر بھاشا ڈیم کیلئے32 ارب 70 کروڑ روپے ‘ مہمند ڈیم کیلئے 35 ارب ستر کروڑ روپے’ کے فورکیلئے 3 ارب20 کروڑ روپے’ کلری باغر فیڈر کی لائنیں بچھانے کیلئے دس ارب روپے اور سندھ طاس نظام پر ٹیلی میٹری نظام کی تنصیب کیلئے چار ارب چالیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر’ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لئے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام2025-26 میں مجموعی طورپر ایک سو چونسٹھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں سے ہرایک کے لئے اڑتالیس اڑتالیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لئے اڑسٹھ ارب روپےمختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے لئے بتیس ارب روپے ‘ گلگت بلتستان کے لئے بائیس ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع اور سابق فاٹا کے دس سالہ منصوبے کے لئے پینسٹھ ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام 2025-26ء کے تحت اکیس اہم منصوبوں کیلئے چودہ ارب تیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر اسلام آباد کے قیام کیلئے چار ارب روپے اور اسلام آباد میں کینسر ہسپتال کیلئے ایک ارب سترکروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کیلئے ایک ارب روپے اور ذیابیطس کی روک تھام کیلئے 80کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔پمز میں نوے کروڑ روپے کی لاگت سے جدید سٹروک Intervention سینٹر قائم کیا جائے گا اور انتہائی نگہداشت کے شعبے کو توسیع دینے کے علاوہ امراض قلب کا شعبہ قائم کیا جائے گا۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos