728 x 90

پاکستان اورملائیشیا کا پائیدار اقتصادی تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہ

پاکستان اورملائیشیا کا پائیدار اقتصادی تعلقات کے فروغ کے عزم کا اعادہ

 پاکستان اور ملائیشیا نے منڈی تک رسائی اور کاروبار میں سہولت میں اضافے کے ذریعے متوازن اور پائیدار اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار شہبازشریف کے ملائیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے میں جو آج ختم ہوگیا وزیراعظم شہبازشریف اور ملائیشیا کے ان کے ہم منصب

 پاکستان اور ملائیشیا نے منڈی تک رسائی اور کاروبار میں سہولت میں اضافے کے ذریعے متوازن اور پائیدار اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اس عزم کا اظہار شہبازشریف کے ملائیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے میں جو آج ختم ہوگیا وزیراعظم شہبازشریف اور ملائیشیا کے ان کے ہم منصب انور ابراہیم کے درمیان کوالالمپور میں ملاقات کے دوران کیا گیا۔

دورہ ختم ہونے کے بعد جاری کردہ ایک مشترکہ بیان کے مطابق فریقین نے ملائیشیا پاکستان قریبی اقتصادی شراکت داری معاہدے پر موثر عملدرآمد پر بھی زور دیا۔

فریقین نے حلال مصنوعات اور خدمات کی عالمی طلب میں اضافے کو سراہتے ہوئے اس شعبے میں تعاون مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے پائیدار زرعی طریقہ کار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ تحقیق، جدت اور پائیدار زرعی پیداوار کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ دونوں فریقوں نے معلومات اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ذریعے بالخصوص دفاعی سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے تکنیکی اور پیشہ وارانہ تربیت اور ادارہ جاتی شراکت داری کے فروغ سمیت تعلیم کے شعبے میں مزید تعاون کا خیر مقدم کیا۔

بہترین روابط اور عوامی وفود کے تبادلوں کے فروغ میں ہوابازی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے رہنماؤں نے فضائی سفر کی خدمات میں اضافے اور ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان رابطے بڑھانے کیلئے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے صحت، دواسازی اور طبی آلات میں تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا جس کا مقصد صحت عامہ اور ان شعبوں میں تجارتی تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے بالخصوص ملائیشیا کے وزٹ ملائیشیا 2026 اور ملائیشیا کے طبی سیاحت کے سال2026 کی روشنی میں سیاحتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی امید ظاہر کی۔

فریقین نے عوامی سطح پر تعلقات کی اہمیت کو تسلیم کیا اور ملائیشیا کی قومی ترقی میں پاکستانی برادری کی شاندار خدمات کا خیر مقدم کیا۔

دونوں رہنماؤں نے معلومات کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور صاف توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری سمیت قابل تجدید توانائی، توانائی کی منتقلی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی جیسے شعبوں سمیت سائنس ‘ ٹیکنالوجی اور جدت میں اشتراک عمل کو فروغ دینے کے لئے تعاون کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے قدرتی آفات کے اثرات سے نمٹنے اور ان کے خطرات میں کمی لانے کیلئے علاقائی تعاون کی انتہائی اہمیت پرزور دیتے ہوئے معلومات کے تبادلے میں اضافے اور انسانی بنیادوں پر امداد’ ہنگامی ردعمل اور آفات کے بعد بحالی اور تعمیر نو میں بہترین طریقے استعمال کرنے کے عزم کا اظہارکیا۔

بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے اُمت مسلمہ کی یکجہتی کو مستحکم کرنے اور اسلام کی حقیقی اقدار کی بالادستی کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق عالمی چیلنجز کے پرامن حل پر زور دیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے جغرافیائی ‘ سیاسی امور بالخصوص مشرق وسطی میں جاری تنازعات اور میانمار کے صوبےRAKHINE میں انسانی صورتحال جو روہنگیاکے مسلمانوں کومتاثر کررہی ہے۔

انہوں نے غزہ میں جاری نسل کشی کی شدید مذمت کی اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور جون1967 سے پہلے کی سرحدوں پرمبنی خودمختار’موثر اور آزادفلسطینی ریاست کے قیام کے لئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos