خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
جھنگ: موچیوالا کے چک نمبر 441 میں مبینہ فائرنگ کی ویڈیو پر ڈی پی او ساجد حسین کا نوٹس، پولیس نے 6 ملزمان حراست میں لے لیے، دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاریجھنگ: ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) عبدالرحمن کا ضلعی محکموں کے اجلاس اور شہر کے مختلف علاقوں کے اچانک دوروں میں ترقیاتی منصوبوں، صفائی آپریشن، سیوریج اور ہسپتال کی سہولیات کا جائزہ، بروقت تکمیل اور عوامی خدمات بہتر بنانے کی ہدایتجھنگ: ڈی پی او ساجد حسین کی زیرِ صدارت ٹریفک پولیس اجلاس، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، حادثات کی روک تھام اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے سخت احتساب کی ہدایتجھنگ میں یوتھ کلائمیٹ کانفرنس، 100 سے زائد طلبہ کی شرکت، دریائے چناب میں سیلاب، شدید گرمی، فضائی آلودگی اور کسانوں کے مسائل پر گفتگو، سفارشات نیشنل یوتھ اسٹیٹمنٹ 2026 میں شامل کی جائیں گینائب وزیراعظم کا برآمدات بڑھانے کے لیے مربوط حکومتی تعاون کے عزم کا اعادہحکومت کا ایس ایم ایز کی برآمدی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اعادہسہ ملکی کرکٹ سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے ہرا دیانگہداشت اور معاونت کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے
ماحولیات

پاکستان میں جنگلی حیات کو خطرات ذمہ دار کون؟

زندگی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے زمین پر زندگی جاندار سے لے کر ایک مکمل شعوری انسان تک بے شمار رنگوں میں موجود ہے زندگی کے تمام پہلوں ایک دوسرے سے جڑے…

پاکستان میں جنگلی حیات کو خطرات ذمہ دار کون؟

زندگی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے زمین پر زندگی جاندار سے لے کر ایک مکمل شعوری انسان تک بے شمار رنگوں میں موجود ہے زندگی کے تمام پہلوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور تمام ایک دوسرے پر منحصر ہیں جو لوگ اپنے ملک اپنے اردگرد کے ماحول سے پیار کرتے ہیں ان کو یہ معلوم ہوگا کہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم ماحول کو خوبصورت اور حیات افزابنا کرزندگی کو اور خوبصورت بناسکتے ہیں زمین پر رہنے والے انسان کے ساتھ پرندے،کیڑے مکوڑے،پرندے اس ماحول کا حصہ ہیں اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ ماحول میں شام رہے تو ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔درختوں کا محدود ہونا جنگلات کی کٹائی سے جنگلی حیات کی بقا کو شدید خطرا ہے اگر ان کی بقا کو خطرا کم نہ ہوا تو انسان کی بقامزید خطرات سے دوچار ہو جائیگی ہم زلزلے،طوفان،سیلاب اور دیگر قدرتی آفات میں انسانی املاک اور جانوں کے نقصان کا تخمینہ تو لگاتے ہیں

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہم اور ہمارے سرکاری ادارے حیاتیاتی انواع کے نقصان کا اندازہ لگانے میں کوئی کردار ادا کرتے ہیں بالکل نہیں 2010 کو دنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع کا سال قرار دیا گیا لیکن اس کو منانے اور اس بارے آگاہی کے لیے عوام کو کس طرح قابل کرنا ہے محکمہ ماحولیات سمیت تمام اداروں کے پاس کوئی پلان آف ایکشن نہیں تھا جب تک پاکستان میں مقامی پودوں کے جنگل لگائے جاتے تھے جن میں شیشم،شریں،بکائن،بیری،کچنار،جامن،نیم سمیت کئی اقسام کے درخت میں اس وقت تک مقامی پرندے ان پر رہتے تھے لیکن جب سے ہم ملک میں غیر ملکی درخت جن میں فامگس (PHYEUS)،پام نام نہاد کجھور،سفیدا،اور دیگر شروع ہوئے ہیں ہمارے چرند،پرند ختم ہونے کے قریب ان درختوں کا ماحول اور لکڑی نہ ہی انسانوں اور نہ ہی چرند،پرند کے لیے معاون ثابت ہورہا ہے گذشتہ 2 سال پہلے جھنگ میں سڑکوں کے کنارے پام کے درخت 2 فٹ گہرائی کھود کر لگائے گئے اور لاکھوں روپے فی درخت بل بنا کر سرکاری خزانہ کو ٹیکہ لگایا گیا یہ درخت اب تباہ برباد ہوچکے ہیں اب بھلا پکی سڑک کے درمیان پام کے درخت کون لگاتا ہے سڑکوں کے کنارے تو دیسی درخت لگائے جاتے ہیں جو ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں لیکن سرکاری آفسران کہتے ہیں کہ دیسی درخت سڑکوں کو نقصان دیتے ہیں

ایک سول انجینئر جوکہ حال ہی میں سیکرٹری ہائی وے سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں کے مطابق صرف برگدکے درخت ہی سڑک کو نقصان دیتے ہیں سب سے زیادہ ہمیں سرکاری آفسران نے برباد کیا ہے انہوں نے اپنے فائدے کے لیے غیر ملکی پودوں کو پرموٹ کیا جس سے ہمارے پرندے تتلیاں،فاختائیں،چڑیاں،کوئل،بلبلیں،وغیرہ ختم ہوگئی ہیں۔صرف چند ایک شکاری پرندے نظر آتے ہیں صرف کوئے یا چیلیں یا کبھی باز وغیرہ کبوتر جنگلی ختم ہوتے جارہے ہیں صرف گھروں میں جو لوگ پالتے ہیں وہ نظر آتے ہیں ہمارے ماحول کو برباد کرنے میں سرکاری اداروں نے اپنی نااہلی میں کسر نہیں چھوڑی پرندوں کا درختو ں،نباتات پر انحصار زندگی کا حسن ہے اس کے علاوہ آبادی میں بے پناہ اضافہ،ندی نالوں،دریاؤن کا سوکھنا،نم آلودہ رقبہ کی کمی پرندوں کو خوراک اور رہائش کی کمی جیسے مسئلوں سے دوچار کردیا ہے،قدرتی آفات بھی پرندوں کے خاتمے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے پاکستان سرکاری سطح پر جنگلی حیات کے قوانین غیر مناسب تشریح گھروں میں پرندوں کی افزائش نسل کے بارے میں سرکاری آفسران کی بے جا دخل اندازی ایک بڑی وجہ ہے زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم آبادی کو آباد کرنے کے لیے ہاؤسنگ کالونیوں کی بھرمار کررہے ہیں اور زرعی رقبہ کو ختم کرنے کو لگے ہوئے ہیں اور اپنی تباہی کا سامان خود پیدا کررہے ہیں انڈسٹری اور سیوریج کا پانی مضرصحت ہوتا ہے ہم ندی نالوں،دریاؤں میں ڈال کر اپنی زرخیز زمین کو تباہ کررہے ہیں جس سے نہ صرف جنگلی حیات کا خاتمہ ہورہا ہے بلکہ ہماری زندگی بھی کم ہورہی ہے اسے روزنئی بیماریوں کا آنا ماحول کو خراب کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے اس لیے ہمیں جنگلی حیات اور زمین کی بقا کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

یہ تحریز مصنف کی ذاتی آراء اور تحقیق پر مبنی ہے جس سے دی جھنگ ٹائمز کا متفق ہونا ضروری نہیں

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں