728 x 90

پاکستان کے معدنی شعبے میں تاریخی پیش رفت، ریکو ڈک منصوبہ کامیابی کی اعلی مثال بن گیا

پاکستان کے معدنی شعبے میں تاریخی پیش رفت، ریکو ڈک منصوبہ کامیابی کی اعلی مثال بن گیا

پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ریکو ڈک منصوبہ عالمی سرمایہ کاری اور اعتماد کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی مثر سہولت کاری اور وژن کے باعث پاکستان کے معدنی شعبے میں عالمی شراکت داری کو فروغ مل رہا ہے، جو

پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ریکو ڈک منصوبہ عالمی سرمایہ کاری اور اعتماد کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی مثر سہولت کاری اور وژن کے باعث پاکستان کے معدنی شعبے میں عالمی شراکت داری کو فروغ مل رہا ہے، جو قومی معیشت کے لیے روشن مستقبل کی نوید ہے۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تکنیکی شراکت داری پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات کے دوران کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان نے کہا کہ بیرک گولڈ کی ریکو ڈک پروجیکٹ میں کامیابی پاکستان اور کینیڈا کے درمیان معدنی تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں کینیڈین کمپنیوں کی شمولیت اور پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

کینیڈا کی جانب سے پاکستان کو دنیا کی سب سے بڑی معدنیاتی کانفرنس پراسپیکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا 2026″ میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی۔ یہ کانفرنس پاکستان کی معدنی صلاحیت کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔

ریکو ڈک منصوبہ نہ صرف پاکستان کے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں میں شامل ہے بلکہ یہ ملک میں عالمی اعتماد کی ایک واضح پہچان بھی بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق معدنی وسائل کی ترقی سے پاکستان کو معاشی خود کفالت، صنعتی وسعت اور قومی معیشت میں طویل المدتی استحکام حاصل ہوگا۔

وزیرِ پٹرولیم کے مشیر برائے جی ایس پی ڈاکٹر حامد اشرف نے بتایا کہ جیولوجیکل سروے آف کینیڈا کے ساتھ اشتراک کے تحت معدنی نقشہ سازی عالمی معیار کے مطابق کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبے سے متعلق تمام ٹیسٹنگ پاکستان میں ہی کی جائے گی، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ ملکی ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان میں کان کنی کے شعبے کی ترقی قومی معیشت کی بحالی اور استحکام کی نمایاں علامت بن رہی ہے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos