728 x 90

پاک فوج فلسطین میں غیر مسلح کرنے نہیں، تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے جائے گی: مولانا طاہر محمود اشرفی

پاک فوج فلسطین میں غیر مسلح کرنے نہیں، تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے جائے گی: مولانا طاہر محمود اشرفی

چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاک فوج کبھی بھی فلسطین میں حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائے گی، بلکہ اگر پاکستانی فوج گئی تو وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینی مسلمانوں کی دوبارہ آبادکاری کے لیے جائے گی۔ جھنگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاک فوج کبھی بھی فلسطین میں حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائے گی، بلکہ اگر پاکستانی فوج گئی تو وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینی مسلمانوں کی دوبارہ آبادکاری کے لیے جائے گی۔

جھنگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان المرصوص میں پاک فوج نے ایسی تاریخی کامیابی حاصل کی جسے مورخ صدیوں تک یاد رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے ہمیشہ اسلامی ممالک پر میزائل گرتے دیکھے، مگر مئی میں پہلی بار دنیا نے پاکستانی میزائل بھارت پر گرتے دیکھے، جو قومی دفاع کی بڑی علامت ہے۔

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ علماء پاکستان کے نظریے کے محافظ ہیں جبکہ فوج سرحدوں کی محافظ ہے، اور جو لوگ ملا ملٹری الائنس پر تنقید کرتے ہیں وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اتحاد فطری طور پر قائم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت داخلی استحکام کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ دہشت گردی کے باعث اب تک 90 ہزار سے ایک لاکھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والے ستر فیصد دہشت گردی کے واقعات میں افغان عناصر ملوث رہے ہیں، تاہم پاک فوج اور قوم مل کر دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کریں گے۔

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ دہشت گردی نے دنیا کے سات ممالک کو تباہ کر دیا، مگر پاکستان اسے شکست دے کر رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان اپنے سے چھ گنا بڑے ملک کو شکست دے سکتا ہے تو دہشت گردی کو شکست دینا بھی ناممکن نہیں۔

انہوں نے افغانستان کے علماء کرام کی جانب سے امن کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے دفاع، سلامتی اور استحکام کے لیے مدارس اور منبر نے کبھی کوتاہی نہیں کی۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت کو قبول کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن ماضی میں بھی ن لیگ کے حلیف رہے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہیں گے۔

جھنگ سے اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ ان کی جوانی کے کئی ایام جھنگ میں گزرے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک وقت تھا جب فرقہ وارانہ دہشت گردی کی لہر جھنگ سے اٹھی تھی، مگر آج جھنگ امن، محبت اور بھائی چارے کی مثال بن چکا ہے۔

انہوں نے پنجاب اسمبلی میں استعمال ہونے والی زبان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ گفتگو مناسب نہیں تھی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ 2017 میں سیاسی جماعتوں کے لیے ضابطہ اخلاق بنانے کی بات کی گئی تھی، مگر بدقسمتی سے اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos