یوم تشکر کی مناسبت سے یادگار پاکستان اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی،وزیراعظم شہبازشریف تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔تقریب میں وفاقی کابینہ کے ارکان،چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹا ف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان شریک ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم نے بھارتی جارحیت کے خلاف جس
یوم تشکر کی مناسبت سے یادگار پاکستان اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی،وزیراعظم شہبازشریف تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔تقریب میں وفاقی کابینہ کے ارکان،چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹا ف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان شریک ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پوری قوم نے بھارتی جارحیت کے خلاف جس اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے، اب ہمیں اسی جذبے کے ساتھ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور عالمی برادری میں وطنِ عزیز کے وقار کو مزید بلند کرنا ہے۔
وزیراعظم اسلام آباد میں واقع پاکستان مونومنٹ پر یومِ تشکر کی مرکزی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے دشمن کو فیصلہ کن شکست دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے پاہلگام واقعے پر پاکستان کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کو مسترد کر کے جنگی جنون کا مظاہرہ کیا اور نہتے پاکستانی شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 9 مئی کی شب بھارت کو مناسب اور موثر جواب دینے کا فیصلہ کیا، اور ہماری مسلح افواج خصوصاً پاک فضائیہ کے جانبازوں نے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کا خودساختہ “علاقائی تھانیدار” ہونے کا زعم ہماری افواج نے مٹی میں ملا دیا، اور پاک فضائیہ نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی عملی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا، جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بڑھا۔
انہوں نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری کامیابی نے وقت کا دھارا بدل دیا ہے اور ہمارے دوست ممالک کو بھی ہم پر فخر ہوا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ترکی، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور ایران سمیت دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بھارت کے بے بنیاد پروپیگنڈے کے خلاف پاکستان کے اصولی مؤقف کی حمایت کی۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن قائم کرنے کی کوششوں اور جنوبی ایشیا میں جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں قائدانہ کردار پر بھی ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں، مگر ہمیں امن کی تلاش ہے۔ ہم نے دشمن کو سبق سکھایا ہے، مگر ہم جارحیت کے قائل نہیں بلکہ ایک پرامن اور خوشحال خطہ چاہتے ہیں جہاں تمام ممالک ہمسائیوں کی طرح مل کر رہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہم، یعنی پاکستان اور بھارت پر منحصر ہے کہ ہم یا تو بدتمیز ہمسائے بن کر رہیں یا پرامن پڑوسیوں کی طرح۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے کیونکہ جنگ ہمیشہ دونوں طرف کے عوام کے لیے مسائل لاتی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے، جس میں 90 ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اور جموں و کشمیر سمیت پانی کی تقسیم جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنا ہوگا، بصورت دیگر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے بعد ہم انسداد دہشتگردی سمیت دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کا آغاز کر سکتے ہیں۔
تقریب کا آغاز شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی سے ہوا، جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اس موقع پر پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔
تقریب میں سید ہادیہ ہاشمی، شبنم مجید اور ساحر علی بگا نے ملی نغمے پیش کیے۔
یومِ تشکر کی اس تقریب میں وفاقی وزراء، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، غیر ملکی سفیروں، میڈیا نمائندگان، فنکاروں، کھلاڑیوں، اعلیٰ عسکری و سول حکام اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *