نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا آغاز نہیں کرے گا، لیکن اگر بھارت کی جانب سے ایسی کوئی حرکت کی گئی تو پاکستان اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ وہ بدھ کے روز اسلام آباد میں ڈی جی آئی ایس
نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا آغاز نہیں کرے گا، لیکن اگر بھارت کی جانب سے ایسی کوئی حرکت کی گئی تو پاکستان اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
وہ بدھ کے روز اسلام آباد میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور ترجمان دفتر خارجہ شفاعت علی خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعے پر تعمیری کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے بیان میں واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف بھارت اپنی دہشت گرد کارروائیوں اور پاکستان و دیگر ممالک میں قتل و غارت کی مہمات کو نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس پر فخر بھی کرتا ہے۔
نائب وزیر اعظم نے مطالبہ کیا کہ پہلگام واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں جیسا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جو بھی ضوابط طے کیے جائیں، وہ قابلِ اعتماد اور باہمی اتفاق سے ہوں۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسے اس سے کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
بھارت کی جانب سے واقعے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات کو غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ یکطرفہ، غیر قانونی اور انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو کسی بھی صورت میں یکطرفہ طور پر ختم یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس عمل سے بھارت کی بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور علاقائی امن کو لاحق خطرات عیاں ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور لاکھوں افراد کا انحصار ان دریاؤں پر ہے جو سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو دیے گئے ہیں۔ ان پانیوں کو روکنے کی کوشش پاکستان کے خلاف جنگ کے مترادف ہو گی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور استحکام کا حامی ہے، لیکن اگر کوئی جارحیت کی گئی تو پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا حقِ دفاع استعمال کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کو سرحد پار قتل و غارت گری اور اسلامو فوبیا پر مبنی اقدامات سے باز رکھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی اشتعال انگیز حکمت عملی ایک ایٹمی خطے میں سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، افواجِ پاکستان چوکس ہیں اور قوم دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہر واقعے پر پیدا کی جانے والی سنسنی خیزی کے ذریعے اپنی اندرونی ناکامیوں اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ دوسروں پر الزامات لگانے کے بجائے اپنے اندرونی مسائل کی طرف توجہ دے تاکہ خطے میں دیرپا امن کا راستہ ہموار ہو سکے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *