ڈائریکٹر جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ورکرزایجوکیشن رائے محمد اکبر نے یوم مزدور کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن محنت کے تقدس اور وقار کی علامت ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کے دن پوری قوم محنت کش طبقے
ڈائریکٹر جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ورکرزایجوکیشن رائے محمد اکبر نے یوم مزدور کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن محنت کے تقدس اور وقار کی علامت ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آج کے دن پوری قوم محنت کش طبقے کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ،ہم ملک کی ترقی و خوشحالی میں مزدوروں کے کردار اور معاونت کو سراہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام سماجی انصاف، مساوات اور انسانی حقوق کے احترام کے اصولوں پر زور دیتا ہے ،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں محنت کشوں کے کام کرنے اور حالات زندگی بہتر بنانے کےلئے پر عزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمیں محنت کشوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے انتھک جدوجہد اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، یہ دن نہ صرف محنت کے تقدس اور وقار کی علامت ہے بلکہ ملکی معاشی ترقی میں مزدوروں اور محنت کشوں کی اہمیت کا اعتراف ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایل او اقوام متحدہ کا سب سے پرانا ادارہ ہے جس کے 190کنونشنز ہیں جن میں سے 36 کنونشنز کی پاکستان نے توثیق کر رکھی ہے۔ مزدوروں کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے سب سے پہلے شکاگو کے مزدوروں نے جدوجہد کی، جس میں ان پر بدترین مظالم ڈھائے گئے مگر یہ جدوجہد بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی اور آج تک مزدوروں کے حوالے سے دنیا بھر میں جو کام ہوا ہے، اس کا کریڈٹ شکاگو کے ان مزدوروں کو ہی جاتا ہے موجودہ حکومت کے دور میں ورکرز کی بحالی، ان کی بہبود، کام کی جگہ کا ماحول، پیشہ وارانہ تحفظ، چائلڈ لیبر کا خاتمہ، ڈومیسٹ لیبر و ہوم بیسڈ ورکرز سمیت دیگر کے حوالے سے قانون سازی وغیرہ سے نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ اب دنیا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہی ہے لہٰذا سائبر سیف سپیس، فری لانسنگ، ورک فرام ہوم و دیگر معاملات کو بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کس طرح آئی ٹی و اس سے منسلک شعبوں میں کام کرنے والوں کے حقوق کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔جتنی بھی قانون سازی ہوئی ہے یا ہورہی ہے یا کی جائے گی، جتنے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں یا اٹھائے جائیں گا ان سب کا مقصد مزدوروں کی ‘سوشل پروٹیکشن’ ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں مزدوروں کے حوالے سے بہت کام ہوا ہے



















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *