شہر کے وسط میں ایوب چوک سے نصف فرلانگ کے فاصلے پر واقع گندے پانی کی خطرناک جھیل کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ یہ جھیل بستی دیوان والی، جلال آباد، کچی آبادی جلال آباد، کچی آبادی دیوان والی، محلہ غلام محمد آباد اور یوسف آباد کے درمیان تقریباً ایک
شہر کے وسط میں ایوب چوک سے نصف فرلانگ کے فاصلے پر واقع گندے پانی کی خطرناک جھیل کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ یہ جھیل بستی دیوان والی، جلال آباد، کچی آبادی جلال آباد، کچی آبادی دیوان والی، محلہ غلام محمد آباد اور یوسف آباد کے درمیان تقریباً ایک مربع ایکٹر اراضی پر گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے سے قائم تھی، جو علاقہ مکینوں کے لیے شدید مسائل اور خطرات کا سبب بنی ہوئی تھی۔ایم ڈی واسا سید صولت رضا شاہ کی خصوصی کاوشوں سے ڈیڑھ ارب روپے کی خطیر لاگت سے جاری سٹی سیوریج منصوبے کے تحت اس جھیل کو باقاعدہ سیوریج لائن سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے بعد علاقہ مکینوں کی طویل عرصے سے مشکلات میں گھری زندگی میں بہتری کی امید پیدا ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ گندے پانی کی اس جھیل کی گہرائی کئی مقامات پر 15 فٹ سے بھی زیادہ تھی اور یہ اب تک 5 سے زائد قیمتی انسانی جانیں نگل چکی ہے۔ اس کے باعث نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ علاقہ شدید ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے سنگین مسائل کا شکار رہا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے احکامات پر اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایم ڈی واسا سید صولت رضا شاہ نے جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ انہوں نے پانی میں گھرے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کا بھی دورہ کیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار اور معیار کو مزید بہتر بنایا جائے۔علاقہ مکینوں نے گندے پانی کی جھیل کے خاتمے اور سیوریج نظام کی بہتری پر حکومت پنجاب اور واسا انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہوگا بلکہ مستقبل میں جانی و مالی نقصانات سے بھی مؤثر طور پر بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *