افغانستان میں طالبان رجیم کے تحت انصاف، بنیادی حقوق اور آزادیوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ طالبان کی مجرمانہ غفلت اور سفاک پالیسیوں نے ملک میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ورلڈ رپورٹ 2026 میں افغان طالبان کے ظلم و جبر، ناانصافی اور شدت پسندی کو بے
افغانستان میں طالبان رجیم کے تحت انصاف، بنیادی حقوق اور آزادیوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ طالبان کی مجرمانہ غفلت اور سفاک پالیسیوں نے ملک میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ورلڈ رپورٹ 2026 میں افغان طالبان کے ظلم و جبر، ناانصافی اور شدت پسندی کو بے نقاب کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم میں جسمانی سزائیں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور وحشیانہ تشدد معمول بن چکے ہیں۔ میڈیا پر سخت قدغنیں عائد ہیں جبکہ سول سوسائٹی اور اقلیتی برادریوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ طالبان نے پابندیوں، تشدد اور بنیادی حقوق کی معطلی کے ذریعے افغان خواتین کو ریاستی نظام سے مکمل طور پر باہر کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ناقص
حکمرانی نے افغان عوام کو شدید معاشی اور سماجی بحران میں دھکیل دیا ہے، جبکہ طالبان رجیم داخلی ناکامی کے ساتھ ساتھ علاقائی عدم استحکام کا باعث بھی بن رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کی پالیسیاں سرحدی سلامتی اور خطے کے امن کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کر رہی ہیں۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *