افغان طالبان رجیم کے دعوے حقیقت سے کوسوں دور، عوام بارودی سرنگوں کے مہلک خطرے سے دوچار افغان طالبان رجیم عوام کے جان و مال کو لاحق خطرات کو پس پشت ڈال کر خطے میں دہشتگردی پھیلانے میں مصروف ۔ بارودی سرنگوں کے خاتمے کے طالبان کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، اقوامِ
افغان طالبان رجیم کے دعوے حقیقت سے کوسوں دور، عوام بارودی سرنگوں کے مہلک خطرے سے دوچار
افغان طالبان رجیم عوام کے جان و مال کو لاحق خطرات کو پس پشت ڈال کر خطے میں دہشتگردی پھیلانے میں مصروف ۔
بارودی سرنگوں کے خاتمے کے طالبان کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، اقوامِ متحدہ کا ہائی الرٹ جاری۔
اقوام متحدہ کی افغانستان میں امدادی مشن(یوناما) کی رپورٹ کے مطابق؛
افغانستان میں بارودی سرنگیں جان لیوا خطرہ بن گئیں، متاثرین کی شرح دنیا میں تیسرے نمبر پر پہنچ گئی۔
افغانستان میں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کے متاثرین میں 80 فیصد بچے شامل ، یوناما رپورٹ۔
33 لاکھ افغان شہری دھماکہ خیز اور بارودی سرنگوں والے علاقوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ، یونامارپورٹ۔
اقوام متحدہ کی مائن ایکشن سروس کے مطابق؛
گذشتہ سال بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے درج کیے گئے 471 واقعات میں 314 بچے شامل ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق:
طالبان رجیم کی توجہ شہری تحفظ کے بجائے دہشتگرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی پر ہے جو خطے کے لیے طویل المدتی خطرہ بن چکا ہے۔
بارودی سرنگوں کے خاتمے میں ناکامی طالبان رجیم کی انتظامی نااہلی اور غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے، جس کا خمیازہ افغان معصوم شہری بھگت رہے ہیں، ماہرین۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *