728 x 90

جھنگ کے سماجی،صحافتی اور تجارتی حلقوں کی سلام اباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت

جھنگ کے سماجی،صحافتی اور تجارتی حلقوں کی سلام اباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت

اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور شہید ہونے والے نمازیوں کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب عبادت گاہوں

اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور شہید ہونے والے نمازیوں کے اہل خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب عبادت گاہوں میں حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ انسانیت کے دشمن ہیں جو امن و امان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

جھنگ کے سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ سینیئر صحافی وحید اختر چوہدری، اخلاق قریشی، ملک اکمل، نوید سدھانہ، ملک سلطان، سماجی کارکن سردار جسپال سنگھ، حاکم خان خٹک، مسیحی رہنما آصف منور، طارق صابری، ڈاکٹر قدوس بابا جی، انجمن تاجران کے رہنما شیخ اظہر، ملک ہیرا، ملک موتی، عابد اشتیاق، ملک الطاف حسین سابق ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر، ذوالقرنین حیدر جگر، روا قمر علی ایڈووکیٹ، محرم علی بالی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، سید متقی شاہ ایڈووکیٹ، سید حسن شاہ ترمذی مرکزی رہنما شیعہ علماء کونسل، عبدالقیوم صدر سمال چیمبر آف کامرس اور عمر رامے نائب صدر جھنگ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت دیگر افراد نے مشترکہ بیان جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں میں خودکش حملے کرنے والے کسی بھی طور پر مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں ہیں۔ یہ عناصر دشمنوں کے ایجنٹ ہیں جو پاکستان کو کمزور کرنے اور مذہب کے نام پر قوم کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں رہنے والے شیعہ، سنی، دیوبندی، اہل حدیث اور تمام اقلیتیں ملکی استحکام اور وحدت کے لیے متحد ہیں اور کسی غیر ملکی طاقت یا دشمن کے آلہ کار نہیں بنیں گے۔ ملک کو نقصان پہنچانے والوں کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

آخر میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس افسوسناک واقعے کی فوری اور شفاف انکوائری کروائی جائے اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos