قانون کے طالب علم سید حسیب اکبر نے اپنے خلاف تھانہ سول لائن لاہور میں درج ایف آئی آر کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے فوری خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات حقائق کے منافی ہیں اور ان کے مستقبل کو
قانون کے طالب علم سید حسیب اکبر نے اپنے خلاف تھانہ سول لائن لاہور میں درج ایف آئی آر کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے فوری خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات حقائق کے منافی ہیں اور ان کے مستقبل کو متاثر کرنے کا خدشہ ہے۔
آج پریس کلب جھنگ میں سینئر وکلاء رانا شیر محمد بھون ایڈووکیٹ، سید نصرت بخاری ایڈووکیٹ، آصف رمضان ڈھانڈلہ ایڈووکیٹ اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید حسیب اکبر نے کہا کہ ایف آئی آر کے متن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے وکیل نہ ہونے کے باوجود عدالت میں پیش ہوکر خود کو وکیل ظاہر کیا، تاہم یہ الزام درست نہیں۔
سید حسیب اکبر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آخری سال کے طالب علم ہیں، لیکن انہوں نے نہ کبھی وکلاء کی یونیفارم پہنی اور نہ ہی کسی عدالت میں وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب بار کونسل کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں اور اپنا مؤقف تفصیل سے پیش کیا ہے۔
انہوں نے پنجاب بار کونسل اور سینئر وکلاء سے اپیل کی کہ نوجوان قانون کے طلبہ اور مستقبل کے وکلاء کے مستقبل کو داؤ پر نہ لگایا جائے اور ان کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے اس معاملے میں جھنگ نشست سے ممبر پنجاب بار کونسل سے بھی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس سے قبل قانون کے طلبہ نے پریس کلب جھنگ کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور سید حسیب اکبر کے خلاف درج مقدمے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *