14 سالہ بچی کی مبینہ گمشدگی، تقریباً 25 روز بعد بھی بازیاب نہ ہوسکی؛ اہلخانہ کا اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ
جھنگ: چوکی روڑانوالی کے علاقے سے 14 سال 8 ماہ کی کمسن بچی کی مبینہ گمشدگی کو تقریباً 25 روز گزرنے کے باوجود بازیابی نہ ہونے پر اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب…

جھنگ: چوکی روڑانوالی کے علاقے سے 14 سال 8 ماہ کی کمسن بچی کی مبینہ گمشدگی کو تقریباً 25 روز گزرنے کے باوجود بازیابی نہ ہونے پر اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور آر پی او فیصل آباد سے فوری نوٹس لینے اور بچی کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق بچی 11 ستمبر 2026 کو مبینہ طور پر لاپتہ ہوئی، جس کے واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی گئی اور تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن جھنگ میں مقدمہ نمبر 1180/26 درج کیا گیا۔ دستیاب ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق مقدمے میں دفعہ 365-B شامل کی گئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق واقعہ سے متعلق درخواست اور مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیشی کارروائی شروع کی گئی۔
اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ملتان سے تعلق رکھنے والے ٹک ٹاک انفلوئنسر علی شاہ قریشی اور اس کے بھائی طاہر اسلام نے مبینہ طور پر بچی کو اس وعدے یا لالچ کے ذریعے ورغلایا کہ اسے ملک بھر میں مشہور اور امیر بنا دیا جائے گا۔ اہلخانہ کے بقول بعد ازاں دونوں افراد مبینہ طور پر مسلح حالت میں گاؤں آئے اور گواہوں کی موجودگی میں بچی کو اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ الزامات اہلخانہ کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ بچی کی تلاش اور بازیابی کے لیے پولیس حکام سمیت متعلقہ سائبر کرائم حکام، چائلڈ ہیلپ لائن 1121 اور زینب الرٹ 1099 سے بھی رابطہ کیا گیا، تاہم تاحال بچی کا سراغ نہیں مل سکا۔ خاندان کے مطابق وہ مسلسل اپنی کمسن بیٹی کی تلاش اور بازیابی کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کر رہے ہیں۔
اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور آر پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بچی کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور جدید ٹیکنالوجی سے مدد لیتے ہوئے تلاش کا دائرہ وسیع کیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقدمے کی تفتیش مؤثر اور بااختیار تفتیشی ٹیم کے ذریعے کرائی جائے، تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والی کمسن بچی کو جلد بازیاب کرا کے اہلخانہ کے حوالے کیا جائے۔


