خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
دنیا بھر میں آیوڈین کی کمی سے بچاؤ کا دن منایا گیا، آیوڈین ملا نمک استعمال کرنے کی اہمیت اجاگرقیصر احمد شیخ کا پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط بنانے پر زورپاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاقبھارت میں مودی کی نااہلی اورادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث بھارتی فوج میں کرپشن کےاسکینڈلز میں اضافہعالمی بینک کا پاکستانی نوجوانوں میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزمبین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے مالدیپ کے صدر کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی گئیپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون کے معاہدے ’’بدر‘‘ پر دستخط کردیےجھنگ میں رجسٹریوں اور انتقالات کے طریقۂ کار میں مبینہ ابہام، شہری اور پراپرٹی کاروبار سے وابستہ افراد پریشان، ڈی سی ریٹ پر نظرثانی اور عوامی مشاورت سے نئے نرخ مقرر کرنے کا مطالبہ
جھنگ

جھنگ میں رجسٹریوں اور انتقالات کے طریقۂ کار میں مبینہ ابہام، شہری اور پراپرٹی کاروبار سے وابستہ افراد پریشان، ڈی سی ریٹ پر نظرثانی اور عوامی مشاورت سے نئے نرخ مقرر کرنے کا مطالبہ

(وحید اختر چوہدری سے ) جھنگ: بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے رجسٹریوں اور انتقالات کے طریقۂ کار میں مبینہ طور پر بار بار تبدیلیوں، رہنمائی کے فقدان اور انتظامی مسائل کے باعث…

جھنگ میں رجسٹریوں اور انتقالات کے طریقۂ کار میں مبینہ ابہام، شہری اور پراپرٹی کاروبار سے وابستہ افراد پریشان، ڈی سی ریٹ پر نظرثانی اور عوامی مشاورت سے نئے نرخ مقرر کرنے کا مطالبہ

(وحید اختر چوہدری سے ) جھنگ: بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے رجسٹریوں اور انتقالات کے طریقۂ کار میں مبینہ طور پر بار بار تبدیلیوں، رہنمائی کے فقدان اور انتظامی مسائل کے باعث شہریوں، پراپرٹی کاروبار سے وابستہ افراد اور ریونیو عملے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب، کمشنر فیصل آباد اور پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (پِلرا) کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹریوں اور انتقالات کے طریقۂ کار کو واضح اور آسان بنایا جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے اور سرکاری محصولات کی وصولی بھی متاثر نہ ہو۔

عوامی حلقوں کے مطابق رجسٹری کے طریقۂ کار سے متعلق مختلف اطلاعات اور نوٹیفکیشنز کے باعث شہریوں میں ابہام پایا جاتا ہے۔ کبھی معاون اراضی سینٹر کے ذریعے رجسٹری لکھنے، کبھی پرانے طریقۂ کار، کبھی کمپیوٹرائزڈ فرد اور کبھی مینول فرد کی بنیاد پر رجسٹری کے بارے میں بات کی جاتی ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ بورڈ آف ریونیو، پِلرا، متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واضح اور یکساں رہنمائی نہ ہونے کے باعث لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔

شہریوں کے مطابق نئے قائم ہونے والے معاون اراضی سینٹرز میں رجسٹرڈ وثیقہ نویسوں کی تعداد بھی محدود ہے، جس کے باعث رجسٹریوں کے کام کا زیادہ بوجھ چند مراکز پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب ریونیو عملے کو اینٹی کرپشن کی کارروائیوں اور چھاپوں کے باعث بھی مشکلات پیش آنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس سے دفتری امور کی رفتار متاثر ہونے اور دور دراز علاقوں سے آنے والے سائلین کو انتظار اور دشواری کا سامنا کرنے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق تحصیل جھنگ میں رجسٹریوں کے کام کے لیے ایک ہی افسر پر زیادہ انحصار کیے جانے سے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ بعض تحصیلداروں کو ان کے متعلقہ حلقوں میں رجسٹریوں کے کام کے لیے لاگ اِن کی سہولت تو فراہم کی گئی ہے، تاہم مبینہ طور پر انہیں مکمل سسٹم دستیاب نہیں، جس کے باعث ان کے حلقوں سے متعلق رجسٹریوں کا کام بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایک ریونیو افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سوال اٹھایا کہ اگر پنجاب کی دیگر تحصیلوں میں متعلقہ تحصیلدار اپنے حلقوں میں رجسٹریوں اور انتقالات کا کام کر رہے ہیں تو جھنگ میں مختلف طریقۂ کار اختیار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ ان کے مطابق کام کی منصفانہ تقسیم اور متعلقہ افسران کو ضروری سہولیات فراہم کرنے سے شہریوں کو بہتر ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ڈی سی ریٹس میں سالانہ اضافے پر بھی شہریوں اور پراپرٹی کاروبار سے وابستہ افراد نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں سرکاری طور پر مقرر کردہ کمرشل جائیدادوں کے نرخ مقامی مارکیٹ کی صورت حال سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر چنبیلی مارکیٹ میں کمرشل پراپرٹی کا ڈی سی ریٹ مبینہ طور پر 80 سے 90 لاکھ روپے فی مرلہ تک پہنچ چکا ہے، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہاں جائیداد کی حقیقی مارکیٹ ویلیو اس سے کم ہے۔ اسی طرح ریل بازار، مین بازار، شہید روڈ، انارکلی بازار اور کھیتانوالہ بازار میں بھی ڈی سی ریٹس میں اضافے پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔

پراپرٹی کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق سرکاری نرخوں میں اضافے سے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور ضرورت کے تحت جائیداد خریدنے والے شہری بھی فیصلہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈی سی ریٹس مقرر کرتے وقت متعلقہ علاقوں کی حقیقی مارکیٹ صورت حال، جائیداد کی نوعیت اور شہریوں کی استطاعت کو مدنظر رکھا جائے۔

عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب، کمشنر فیصل آباد اور پِلرا کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹریوں اور انتقالات کے طریقۂ کار سے متعلق واضح پالیسی جاری کی جائے، متعلقہ افسران کو ضروری اختیارات اور سہولیات فراہم کی جائیں اور شہریوں کی رہنمائی کے لیے مؤثر نظام بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ڈی سی ریٹس میں سالانہ اضافے سے قبل مقامی شہریوں، تاجروں، پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے تاکہ سرکاری نرخ حقیقت پسندانہ ہوں، ٹیکسوں کا غیر ضروری بوجھ نہ بڑھے اور شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں