728 x 90

کیسی انوکھی بات رے

کیسی انوکھی بات رے

جھنگ کےشاعر اور ادیبوں نے جب بھی لکھا ہے کمال لکھا ہے اس میں کوئی شک نہیں اردو ادب ہو یا پنجابی ادب اس شہر کے لکھاریوں نے نہ صرف پڑھنے والوں کے ذوق کو تسکین بخشی بلکہ ادبی دنیا میں مقام بنایا. ادب کی کوئی بھی صنف ہو اس شہر کے لکھنے والوں کی

جھنگ کےشاعر اور ادیبوں نے جب بھی لکھا ہے کمال لکھا ہے اس میں کوئی شک نہیں اردو ادب ہو یا پنجابی ادب اس شہر کے لکھاریوں نے نہ صرف پڑھنے والوں کے ذوق کو تسکین بخشی بلکہ ادبی دنیا میں مقام بنایا. ادب کی کوئی بھی صنف ہو اس شہر کے لکھنے والوں کی تحریروں سے آنکھیں چرانا ممکن نہی.جھنگ مٹی سے جنم لینے والے انوکھے لاڈلے نے جب کھیلن کو مانگے چاند کی فرمائش کی تو اس کی چھیڑ خانیوں کی بھنبیری نے اسکی وکھری سوچ کا پتہ دیا. یہ وکھری سوچ اسے اٹھکھیلیاں کرواتے ہوئے نہ صرف حسن مصر تک لے گئی بلکہ اسے ایک نہیں چار چار کی گردان کی نے بھی اہل ذوقِ کو اپنی طرف متوجہ کرنے پرمجبور کردیا اور بالآخر اس نے وہ سب کر دکھایا جو کرنا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ڈاکٹر نیاز علی محسن نے نہ صرف اردو  بلکہ پنجابی اور انگریزی میں بھی اپنی سحر انگیزی سے پڑھنے والوں کو متاثر کیا .
ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ جھنگ کے ادب کی وہ ممتاز شخصیت ہیں جن کا شمار ان چند لکھاریوں میں ہوتا ہے جو ادب کی ہر صنف پر خاص دسترس رکھتے ہیں. مگھیانہ صاحب جتنے ماہر ڈاکٹر اور بہترین سرجن ہیں اتنے ہی عمدہ اور منفرد تخلیق کار بھی ہیں اور یہ عنصر کی تحریروں میں عیاں ہے.
نیاز علی محسن  مہر شیر محمد مگھیانہ کے گھر
1 جنوری 1956 کو جھنگ صدر کے محلہ سلطان والا میں پیدا   ہوئے  والد صاحب پٹواری تھے لہذا والد صاحب کے ساتھ ہی ان کا بھی تبادلہ ہوجاتا اس وجہ پرائمری تک تعلیم مختلف اسکولوں میں حاصل کی.  1970 میں میٹرک اسلامیہ ہائی سکول جھنگ صدر سے کیا. گورنمنٹ کالج جھنگ صدر سے 1973 ایف ایس سی کی  پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد سے 1981 میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا. ہاوس جاب کے بعد پنجاب میڈیکل کالج میں اناٹومی پڑھاتے رہے اور ساتھ ہی اسی کالج میں ماسٹر آف سرجری بھی پڑھتے رہے ڈاکٹر صاحب کو پنجاب میڈیکل کالج کے ماسٹر آف سرجری کے پہلے  سٹوڈنٹ ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے  اور ساتھ ہی یونیورسٹی ایگری کلچر فیصل آباد سے ایم ایس سی آنرز بھی کرتے رہے. ڈاکٹر صاحب اس دوران پنجاب میڈیکل کالج کے سینئر رجسٹرار بھی رہے ڈاکٹر صاحب  3 ماہ پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کے اسسٹنٹ پروفیسر بھی رہے. 1990 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بطور سرجن فرائض سرانجام دیئے ٹوبہ میں ان کاقیام صرف 40 روز ہی رہا   1990  میں چنیوٹ کے پہلے سرجن کے طور پر تعینات ہوئے اس کے ساتھ ہی اسی سال  تین دن جھنگ اور چنیوٹ میں اکٹھے کام کرتے رہے 1996 میں مستقل طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ کے  سرجن کے طور پر خدمات سنبھال لیں اور یہیں سے 31 دسمبر 2015 کو ریٹائرمنٹ لی. 31 دسمبر 2016  میں پی ایم اے کے صدر رہے.
نیاز علی محسن کو اپنی اوائل عمر سے لکھنے کا شوق تھا اسی شوق کی تسکین کے لیے
1968 میں جب وہ آٹھویں کلاس میں پڑھتے تھے اپنی پہلی تحریر لکھی1969 میں جب وہ  نویں کلاس میں پڑھتے تھے  خواجہ یونس حسن شہید ستارہ جرات پیین فرینڈز شپ  کلب  بنایا اور اسی پلیٹ فارم سے  رسالہ شہید شائع کیا .ڈاکٹر صاحب گورنمنٹ کالج جھنگ کے ادبی مجلّہ  کارواں کے  ایڈیٹر بھی رہےآپ  پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد کے میگزین پرواز کے ادارت میں شامل رہے آپ  1978 میں  سٹوڈنٹ یونین کے صدر بھی رہے
1994  میں انوکھا لاڈلا کے عنوان سے ان کی پہلی تصنیف منظر عام پر آئی جو ان کی  اپنی بائیو گرافی تھی. ڈاکٹر صاحب اب تک 24 کتب اردو، پنجابی اور انگریزی زبان میں لکھ چکے ہیں
ان کی اردو شاعری کی دو کتابیں شائع ہو چکی ہیں  یہ کیسی محبت ہے اور من بگیا (دوہے) جب کہ پنجابی ماہیوں کی کتاب موتی رولن دے بھی چھپ چکی ہیں.
اگر چہ آپ نے ادب کی مختلف صنفوں میںلکھا لیکن ادبی حلقوں میں آپ کو ایک مزاح نگار کے طور پر جانا جاتا ہے. ڈاکٹر صاحب بہت سے قومی اخبارات میں کالم بھی  لکھتے رہے. ڈاکٹر صاحب پر   اب تک  2 بی ایس 2 ایم اے اور 9 ایم فل کے ٹھیسز  ہو چکے ہیں . سرگودھا یونیورسٹی میں ابھی ایک تھیسز مزید بھی کیا جارہا ہے پی ایچ ڈی کے اس تھیسز میں ان کا حج کا سفر نامہ الف میم شامل ہے اور پشاور یونیورسٹی میں ان پر ایک اور تھیسز بھی تکمیل کے مراحل میں ہے. انہی ادبی تنظیموں کی جانب سے لاتعداد اعزازات سے نوازا.
ڈاکٹر صاحب کی کتب برطانیہ کی برٹش لائبریری گانگریس لائبریری اور ہارورڈ یونیورسٹی کی لائبریری سمیت دنیا کے متعدد کتب خانوں میں دستیاب ہیں.
ان کی شاعری کو بھی پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے. پاکستان کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، ہندوستان اور کینیڈا کے کئی عالمی مشاعروں کی صدارت کر چکے ہیں
ڈاکٹر صاحب کا لکھا گیا ترانہ کشمیر پاکستان ٹیلی ویژن سے بہت بار نشر کیا گیا. اسے ایوب مرزا نے نہایت جوش سے گایا. ماسٹر عبداللہ نے خوب دھن بنائی اور فرحت انور نے بڑے جذبے سے پروڈیوس کیا. صدر جنرل پرویز مشرف کے آزاد کشمیر کے 5 فروری 2000 کے خطاب سے پہلے اسے نشر کیا گیا.
ڈاکٹر محسن مگھیانہ اردو اور پنجابی کے علاوہ انگریزی میں بھی شاعری کرتے ہیں. ان کی 24 ویں کتاب سرجری سے متعلق ہے MAKING OF A CHIEF SURGEON. اس کے آخر میں ان کی انگریزی نظمیں بھی شامل ہیں جنہیں انگریزی ادبی حلقے بھی سراہ رہے ہیں
ڈاکٹر صاحب کی تحریروں میں جہاں پر مزاح کا عنصر نمایاں ہے وہیں پر انہوں نے اپنے شعبے کے پیش نظر طنز کے نشتر چلانے میں بھی تعامل نہیں کیا. انہوں نے اپنی تخلیقات میں جہاں پر حسن عشق کے  لطیف جذبات کی عکاسی کی وہی پر انہوں نے معاشرے کی مسائل کو بھی جگہ دی. محسن مگھیا نہ نے زندگی کے تلخ حقائق کو جس انداز میں اپنی تحریروں میں سمویا وہ پرھنے لائق ہے. ڈاکٹر صاحب جہاں پر اپنی تخلیقات کو کتب کی زینت بنایا وہی پر انہوں نے جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر محسن مگھیانہ کے نام ایک یو ٹیوب چینل بھی بنایا ہے جہاں پر ادبی گفتگو کے ساتھ عام زندگی کے معمولات پر گفتگو کرتے ہیں.
نیاز علی محسن  کی تحریروں اور گفتگو میں قدیم و جدید ادب  کا حسین امتزاج ہے دور حاضر کے ادبی حلقوں میں ڈاکٹر محسن مگھیانہ ایک منفرد مقام رکھتے ہیں.
یہ مکمل تحریر ہے اور اس کی تصاویر بھی ساتھ ہیں یہ صفحہ نمبر تین پر لگانی ہے

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos