پاکستان میں خودمختار خواتین اور معاشرہ کا رویہ
معاشرہ میں خواتین کو بااختیار بنانے کا مقصد کسی بھی ملک میں خواتین کو سیاسی،عملی،سماجی عمل میں طاقتور بنانا ہوتا ہے تاکہ خواتین کو زندگی گزارنے کے عمل میں فیصلوں اور ممکنات کو پور…

معاشرہ میں خواتین کو بااختیار بنانے کا مقصد کسی بھی ملک میں خواتین کو سیاسی،عملی،سماجی عمل میں طاقتور بنانا ہوتا ہے تاکہ خواتین کو زندگی گزارنے کے عمل میں فیصلوں اور ممکنات کو پور اکرنے کااختیار حاصل ہوکسی بھی معاشرہ میں خواتین پراپنی مرضی ٹھوسنے سے ان کی انسانی صلاحیتیں دیگر خصوصیات ختم ہوجاتی ہیں اور معاشرہ ساری زندگی اس کی بھاری قیمت اداکرتا ہے ترقی یافتہ ملکوں میں خواتین کی خودمختاری ایک اہم موضوع بن چکا ہے پاکستان جیسے ملکوں میں خواتین کا جواستحصال ہورہا ہے وہ ترقی یافتہ ملکوں میں خاص طورپر زیر بچت لایاجاتا ہے خواتین کو پاکستان میں اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ حقدار ہیں پاکستان کا آئین اور دیگر قوانین جوخواتین کو اختیار دیتے ہیں ان پر عمل نہیں کیاجارہا کیونکہ ان کو اپنی زندگی اور اپنے آپ پر مکمل اختیار نہیں ہے ان کو خاندان اور اردگرد میں ہونے والے تمام تر فیصلوں میں شریک نہیں کیاجارہا جو خواتین پاکستان میں خودمختار ہیں اور وہ اپنی کمیونٹی کی ترقی میں کردار اداکرتی ہیں ان کو مذہب اور خاندانی روایت کے نا م پر ہراس کیاجاتاہے پاکستان میں کام کرنے والی بہت ساری غیر سرکاری تنظیمیں (این جی او) کے نزدیک خواتین کی خودمختاری سے مراد خواتین کی انصاف اور بنیادی حقوق تک رسائی کو ممکن بنانا ہے اور اس کے علاوہ ان کے نزدیک خواتین کو بااختیار بنانے کا مطلب کمیونٹی،گھر، معاشرہ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں ممکنہ واقعوں کے بارے میں ان کی معلومات میں اضافہ کرنا تاکہ وہ خواتین پر ہونے والے تشدد کے خلاف جوکہ صرف خاتون ہونے کی وجہ سے ان پر کیاجارہا ہے کے خلاف موثر انداز میں آواز اٹھا سکیں اور اپنے حقوق جوکہ پاکستان کا آئین اور قوانین ان کو دیتا ہے کا تحفظ بہتر انداز یں کرسکے پاکستانی معاشرہ میں ایک بڑا المیہ ہے کہ رقی پذیر ہونے کی وجہ سے سماجی ترقی کے ساتھ معاشی ترقی کی رفتار بھی انتہائی سست ہے اس کی بنیادی وجہ خواتین جوکہ پاکستان کی تقریباً 50فیصد آبادی ہے کو معاشرہ میں مختلف حوالوں سے دباوکاشکار ہیں اوران کو ترقی کے حوالے سے جاری تمام عمل میں شامل نہیں کیاجاتا کبھی مذاہب،کبھی سماج،کبھی روایت کے نام پر سماجی اور معاشی عمل سے دوررکھا جاتا ہے جب سے نہ صرف ان کی انفرادی بلکہ اجتماعی سوچ بھی متاثر ہوتی ہے خواتین کو بااختیار بنانے کا تصور ان کو ندگی گزارنے،سماجی، معاشی، سیاسی ترقی میں بربری کی بنیاد پر مواقع اور فیصلہ کرنے کااختیار دیتا ہے خواتین کو پاکستان میں بااختیار بنانے میں کئی رکاوٹ موجود ہیں موجود ہیں جیسے کہ غربت تعلیم کی کمی،نوکری کا نہ ہونا، بے بسی، سیاسی عمل میں مناسب نمائندگی
کا نہ ہونا،امتیازی ڈھانچوں، روایتی روئیوں کا ہونا جوکہ ان کو براہ راست متاثر کررہے ہیں خواتین میں خوداعتمادی کا فقدا ن گھر، عوامی سطح پر فیصلوں میں اس کو شریک نہ کرنا، آگاہی کی کمی جس کی وجہ سے وہ مفادات،ذمہ داری کے فیصلوں میں شریک نہیں ہوپاتی کیونکہ وہ اپنی اہمیت سے مکمل آگاہ نہیں ہے اس کو یہ نہیں معلوم کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں ان کو گھر اور بیرونی سطح پر اپنی زندگیوں کے حوالے سے فیصلہ کرنے کااختیار حاصل نہیں پیدائش سے لے کر مرنے تک اس کا حق چھین لیاجاتا ہے۔ اس کے پیدا ہونے کی خوشی نہیں کی جاتی اس کو عملی زندگی میں مرضی سے تعلیم حاصل کرنے کااختیار نہیں دیا جاتا شادی میں مرضی شامل نہ ہونا ساری زندگی اس کو کم تری کا احساس ہوتا رہتا ہے پاکستان میں معاشرہ خواتین کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتا ہے لیکن اس کا مذہبی اور آئینی حق نہیں دیتا وہ اپنے سیاسی،سماجی نکات میں خود فیصلہ نہیں کرسکتی اس معاشرہ میں اگر کوئی عورت اپنے حق وراثت کیلئے آواز اٹھاتی ہے تو اس کی آواز کو دبادیا جاتا ہے پاکستان میں ہزاروں ایسے واقعات رپورٹ ہیں جس میں خواتین کو اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے پر قتل، کاروکاری کردیاگیا ہو پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں بے نظیر بھٹو خاتون ہونے کی وجہ سے دو بار وزیراعظم بن چکی ہیں اس کے باوجود ملک کے کافی علاقے ایسے ہیں جہاں پر خواتین کو ووٹ ڈالنے کی آزادی نہیں اسی صورتحال میں خواتین کی بڑی تعداد کیلئے سیاسی عمل میں برابری ابھی تک ایک خواب کی طرح ہیں پاکستان میں سیاسی عمل میں خواتین کا شامل ہونا آج بھی ناپسند کیاجاتا ہے اس لیے وہ ہرعمل میں امتیازی سلوک کا شکار ہے جیسے کہ سابق وزیرنیلو فر بختیار کو لال مسجد کی طرف سے جاری کردہ بیانات کی وجہ سے پوزیشن سے ہٹنا پڑا،ظل ہما سابق وزیر ترقی خواتین کا قتل،بے نظیر بھٹو کا قتل پاکستان میں ووٹر لسٹ جوکہ نئی بنائی گئی ہے اس میں زیادہ تر خواتین کا نام شامل نہیں ہے خواتین کی سیاست میں شراکت میں عملی رکاوٹ میں سب سے زیادہ ان کا اپنا زیادہ کردار ہے زیادہ تر خواتین کم تعلیم یافتہ ہیں ان کے پاس سیاست میں شامل ہونے کیلے درکا رمالی وسائل، اعتماد،معلومات،جذبے اور سیاسی مہارتوں کی کمی ہے۔ بہت کم خواتین ایسی ہیں جن کے شناختی کارڈ بنے ہوئے ہیں باقی خواتین شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ کاسٹ نہیں کرپاتی اکثر کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں،سیکورٹی،خاندانی مسائل بھی سیاسی عمل میں شامل نہ ہونے کی بڑی وجوہات ہیں حالانکہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کافی سارے قوانین،بل موجود ہیں جن میں گھریلوتشدد کی روک تھام کیلئے تحفظ نسواں ایکٹ 2005،کام کی جگہ پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے خلاف ایکٹ،
ایسڈ کنٹرول اینڈ ایسڈ کرائم پر یونیشن ایکٹ (2011) مشکل میں خواتین اور ہراسمنٹ ایکٹ2011یہ ایکٹ پہلے 1996 میں منظورہ ہوامگر بعد میں اس میں انسانی حقوق کے پیرائے میں ترامیم2011میں کی گئی کمیشن برائے خواتین 2012عورتوں کا استعمال اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے والے رسم رواج کے ایکٹ2011فوجداری قوانین میں دوسری ترامیم 2011 تحفظ نسواں قوانین میں ترمیم جس میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے ایکٹ2016ہندو میرج ایکٹ2017پیپلز ایکٹ1976میں ترامیم وغیرہ شامل ہیں اگر مذہب کا حوالہ دیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مذہب بھی اس بات کی قدغن نہیں لگاتا کہ خواتین صرف گھروں کے کام کاج تک ہی محدود ہوں اس کی بہترین مثال حضرت خدیجہ ہیں جوکہ ایک کاروباری خاتون تھی،حضرت عمر کے دور خلافت میں بھی خواتین کاروبار کرتی تھی خواتین کی گھریلو مصنوعات کو اگر بیرون ملک مارکیٹ تک رسائی دے دی جائے تو یہ بھی برآمدات کا ایک موثر ذریعہ بن سکتا ہے پاکستان میں عورتوں اور مردوں کے درمیان منفی بنیادوں پر کی جانے والی کام کی تقسیم جس کے مطابق عورتیں گھرکے اندر اور مرد گھر کے باہر کاموں کیلئے ذمہ دار ہیں جیسے رویئے معاشرہ میں خواتین کی عوامی زندگی میں شرکت کی راہ میں سب سے بڑی ادارتی رکاوٹ ہے اس کی نجی اور عوامی تعلیم کے مطابق کاروبار اور سیاست صرف مردوں کاحق ہے معاشی طورپر بااختیار ہونا خواتین کا بنیادی حق اور معاشرتی انصاف پر مبنی مسئلہ ہے کیونکہ بااختیار خواتین کی بدولت ہی غربت میں کمی آتی ہے معاشی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں جس سے ملکی ترقی میں اضافہ ممکن ہے گھر اور گھر سے باہر بلامعاوضہ کام خواتین کی معاشی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ تمام ادارے بتدریج اپنے اندر احتساب کے عمل کو شفاف بناتے ہوئے برابری کی بنیادوں پرخواتین کیلئے معاشی مواقعوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور ادارہ جاتی سطح پر خواتین کیلئے معاشی تربیت کا انعقاد کیا جائے خواتین کیلئے حکومت کم مالیت کے چھوٹے کاروبار کرنے کیلئے معاشی پلان بنا کر وسائل پیدا کیے جائیں ایسے حالات پیدا کیے جائیں جس میں خواتین بااختیار طریقہ سے اپنا روزگارکرسکے خواتین کو وراثت میں حصہ دینے کے جو قوانین ہیں ان میں بہتری لائی جائے۔ حکومت خواتین کو بااختیاربنانے کیلئے ان کو ملکی سطح پر کاروباری معلومات اور تکنیکی مہارتیں فراہم کریں موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو پہلے سے بہتر لائحہ عمل ہے جس کو مزید بہتر کیاجانا اچھا قدم ہوگا اگر پاکستان کی حکومت اور عوام پاکستان کی ترقی کی خواہاں ہے تو حکومت کو ہرممکن کوشش کرنی ہوگی کہ وہ خواتین کی معاشی حیثیت کو تسلیم کریں اور ان کو ایسے مواقع فراہم کریں جن کے ذریعے تعلیم، ہنر،کاروبار کے اصول وضوابط،معاشی وسال اور مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو اس صورت میں ہم اسلام اور دنیاوی طریقہ سے خواتین کو ملکی ترقی میں متوازن طریقے سے شامل کرسکتے ہیں ورلڈ لیبر آرگنائزیشن کے مطابق پاکسان میں خواتین کی افرادی قوت 22.6فیصد ہے جوکہ انتہائی مایوس کن ہے دنیا کے128ملکوں کی درجہ کے مطابق معیشت میں خواتین کی شرکت کے لحاظ سے پاکستان کا126واں نمبر ہے پاکستان میں خواتین کا معیشت میں کم حصہ کی کئی وجوہات ہیں جیساکہ جو خواتین ڈاکٹر بن جاتی ہیں ان میں سے65فیصد شادی کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہیں اس طرح کاروبار کے بارے میں گریجوایٹس کرنے والی80فیصد خواتین شادی کے بعد گھر میں بیٹھ جاتی ہیں پڑھی لکھی اور ان پڑھ خواتین کی10فیصد تعداد ہی سرمایہ کاری کا حصہ بنتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں دنیا کی دیگر ترقی یافتہ ملکوں کی طرح خواتین کو مردوں کے برابر ترقی کا حصہ بنا کر ہم اپنے معاشرہ کو بہتر بناسکتے ہیں عورت مرد کو پیدا کرتی ہے اس کی تربیت کرتی ہے اور سب کچھ قربان کردیتی ہے اس کی زندگی بہتر بنانے کیلئے وہ مرد ہی اس کو کمتر بنا دے گا تو معاشرہ کیسے بہتر ہوسکتا ہے عورت کی تربیت دنیا کے مطابق اور اپنے دین کے اصول کو اپنا کر ترقی یافتہ بناسکتی ہے حکومت کے ساتھ سول سوسائٹی،این جی او اور دیگر سٹیک ہولڈر اس بارے میں اپنا بہتر کردار اداکریں توہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی خواتین جس طرح معاشرہ میں اپنا مقام پیداکررہی ہیں وہ مزید اوپر جاسکتی ہیں


