ھارتی سپریم کورٹ نے اقلیتوں سے متعلق متنازع فیصلہ سناتے ہوئے سماجی امتیاز کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اسلام یا عیسائیت اختیار کرنے والے افراد کا شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ ختم ہو جائے گا، اس متنازعہ فیصلے کے بعد وہ مخصوص مراعات جیسے نوکری، تعلیم اور سیاسی
ھارتی سپریم کورٹ نے اقلیتوں سے متعلق متنازع فیصلہ سناتے ہوئے سماجی امتیاز کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اسلام یا عیسائیت اختیار کرنے والے افراد کا شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ ختم ہو جائے گا، اس متنازعہ فیصلے کے بعد وہ مخصوص مراعات جیسے نوکری، تعلیم اور سیاسی نمائندگی کے دعوے کے اہل نہیں رہیں گے۔
بھارتی قانون کے مطابق صرف ہندو، سکھ اور بدھ مت کے افراد شیڈولڈ کاسٹ کے اہل ہیں، جبکہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک بھارتی شہری نے عیسائیت اختیار کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں قانونی تحفظات کا دعویٰ کیا تھا۔ بھارتی پادری نے محض مذہب کی تبدیلی پر بدترین تشدد اور بدسلوکی کے خلاف کیس دائر کیا تھا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بھارت میں مذہب تبدیلی کے قوانین کی آڑ میں اقلیتوں، بالخصوص عیسائیوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کے تحت بنیادی شہری حقوق کا تعلق مذہب سے ہونا آئینی اصولوں کے متصادم ہے۔ شیڈولڈ کاسٹ سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مودی حکومت کی اقلیتوں کیخلاف متعصبانہ پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *