لگائی جانے والی تصویر حقیقی نہیں یہ اے آئی سے بنائی گئی ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب مغل سلطنت زوال پذیر ہو رہی تھی اور چھوٹی چھوٹی ریاستیں خود مختار ہو کر مغلوں کی سرپرستی سے آزاد ہوتی جا رہی تھیں ۔ ریاستوں کی آزادی کی تحریک جھنگ تک بھی پہنچ گئی
لگائی جانے والی تصویر حقیقی نہیں یہ اے آئی سے بنائی گئی ہے
یہ ان دنوں کی بات ہے جب مغل سلطنت زوال پذیر ہو رہی تھی اور چھوٹی چھوٹی ریاستیں خود مختار ہو کر مغلوں کی سرپرستی سے آزاد ہوتی جا رہی تھیں ۔ ریاستوں کی آزادی کی تحریک جھنگ تک بھی پہنچ گئی اس وقت جھنگ پر سیالوں کا تیرھواں حکمران نواب ولیداد خان حاکم تھا اور اس کی یہاں حکومت تھی۔ یاد رہے کہ جھنگ میں سیالوں کا پہلا حکمران نواب مل خان نواب بہلول لودھی کے عہد گورنری پنجاب کے دوران بر سر اقتدار آیا تھا
نواب ولیداد خان کو آس پاس کے نوابوں اور مہاراجوں نے اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ وہ مغل حکمران کوخراج اور مالیہ کی خطیر رقم ادا نہ کرے بلکہ آزاد ہو جائے۔ مغل حکومت اب اس قابل نہیں رہی کہ وہ کسی ریاستی حکمران کے خلاف فوجی مہم کر سکے لیکن نواب ولیداد خان نے ہمیشہ ان لوگوں کو ایک ہی جواب دیا کہ مغل سلطنت ہندوستان میں مرکز اسلام کی حیثیت رکھتی ہے ۔ میں محض چند ٹکوں کی خاطر اپنے مرکز سے بے وفائی نہیں کروں گا ولیداد خان کا یہ جذبہ قابل صد مبارک باد تھا یہی وجہ ہے کہ مورخین نے اسے فراخ دلی سے خراج تحسین پیش کیا ہے ۔
نواب ولیداد خان 1163 میں انتقال کر گیا چونکہ وہ اولاد نرینہ سے محروم تھا اس لئے جھنگ کی ریاست سے اس کی نسل ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئی ۔
ولیداد خان کی ایک لڑ کی فتح بی بی تھی جس کی شادی اس نے اپنی زندگی میں اپنے حقیقی بھتیجے عنایت اللہ خان سے کر دی تھی جو براہم خان کا بٹیا تھا کوٹ براہم تحصیل جھنگ اسی کا آباد کردہ ہے، ولیداد خان کی وفات کے بعد اکثر وزرا ریاست کا یہی خیال تھا کہ باپ کی گدی پر فتح بی بی کو بٹھا دیا جائے جو ولیداد ہی کی طرح سمجھدار بہادر اور رعایا پرور ہے لیکن فتح بی بی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ شریعت نے عورت کو امیر یا بادشاہ مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی –
دوسری طرف ولیداد خان کے دوسرے بھتیجے شہادت خان ولد شیر خان کی
شادی عنایت اللہ خان کی حقیقی ہمشیرہ سے ہو چکی تھی اس خاندان کی دو شاخیں ولیداد کی جانشینی کی مستحق سمجھی جا رہی تھیں دو ماہ تک کاروبار ریاست فتح بی بی انجام دیتی رہی اور وزرار ریاست و خاندان کے سرکردہ افراد جانشینی کا مسئلہ حل کرنے کے بارے میں سوچتے رہے۔ چنانچہ انہوں نے کافی سوچ و بچار کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ اس ریاست پر عنایت الله خان اور شہادت خان دونوں بیک وقت حکومت کریں گے تمام امور ریاست دونوں کے مشورہ سے طے ہوں گے اور تمام احکامات دونوں کے دستخطوں سے جاری ہوں گے۔
چنانچہ روسا اور امر ریاست کے اس بالکل انوکھے نرالے فیصلہ کے مطابق
1163 ہجری کو شوال کے مہینے کے پہلے ہفتے کے دن عنایت اللہ خان اور شہادت اللہ خان دونوں کو بیک وقت جھنگ کا حکمران بنانے کے لئے دربار عام کا اعلان ہوا جس میں دونوں کے سر پر تاج رکھے گئے ۔ دونوں نے شاہی لباس پہنا دونوں تخت پر بیٹھے دونوں کو سرکاری انگوٹھیاں جن سے سرکاری احکامات پر مہریں لگائی جاتی تھیں پہنائی گئیں اور اس طرح دنیا میں پہلی اور شاید آخری بار یہ تجربہ عمل میں آیا کہ ایک نگری میں دو راجے کیسے حکومت کرتے ہیں۔ چنانچہ تین سال تک دونوں نے مشترکہ حکومت کی ۔ دونوں بیک وقت دربار میں آتے۔ دونوں بیرونی سفراء سے ملاقات کرتے اور دونوں دیگر امور مملکت سرانجام دیتے ۔ جھنگ کے سیالوں کی یہ حکومت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئی بیرونی حکومتیں جب سنتیں حیران ہو جاتیں اور حالات کا جائزہ لینے کیلئے اپنے قاصد روانہ کرتیں ۔ تین برس تک ایک نگری کے دو راجے ایک وقت میں حکمران رہے اور عملاً دو تلواریں ایک میان میں سما دیں گئیں۔ لیکن یہ تجرباتی دور قطعاً مختصر ثابت ہوا۔ حاسدین کی نظر کھا گئی ۔ شہادت خان نے بدگمانی میں پہل کی اور تخت سے از خود علیحدہ ہو کر فوج میں بغاوت پھیلائی اپنے ہمنواؤں کو جمع کر کے چناب کے کنارے کا علاقہ آزاد کرا لیا اور نئی ریاست کا اعلان کر دیا ۔ عنایت اللہ خان نے اس بغاوت کو ختم کرنے کیلئے خود فوج کی کمان سنبھالی اور موضع سلطان پور کے قریب دونوں کی فوجوں میں گھمسان کا معرکہ ہوا جس میں شہادت خان زخمی ہوکر گرا اس کی فورج پسپا ہوگئی ۔ شہادت خان زخموں سے چور کراہ کا تھا اسے پانی کی شدید طلب ہوئی اس نے عنایت اللہ سے پانی مانگا۔ عنایت اللہ نے پانی کے بجائے شربت اس کے پاس بھجوادیا جو شخص شربت لے کر پہنچا شہادت خاں نے اسے کہا وہ خود شربت لاتا تو میں با وجود زخمی ہونے کے اسے اپنی تلوار کا مزہ چکھاتا ۔
شہادت خال 3 رمضان المبارک 1167 ہجری کو انہی زخموں کی وجہ سے جاں بحق ہو گیا اور اس طرح جھنگ کی ریاست کلی طور پر عنایت اللہ خان کی تحویل میں آگئی ۔
یہ تحریر مصنف کی ذاتی آراء اور تحقیق پر مبنی ہے جس سے دی جھنگ ٹائمز کا متفق ہونا ضروری نہیں


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *