728 x 90

تھانہ صدر جھنگ کے قتل کے مقدمہ نمبری 983/25 کے ملزم خالد عباس کے بھائی بدر عباس اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ پریس کانفرنس

تھانہ صدر جھنگ کے قتل کے مقدمہ نمبری 983/25 کے ملزم خالد عباس کے بھائی بدر عباس اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ پریس کانفرنس

ہمارے بھائی کو قتل کرکے نعش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھیتوں میں پھینک دئیے گئے اور نعش کو ناقابل شناخت بنانے کے بعد مقتول کے خلاف ایک خاتون کے قتل کا مقدمہ درج کروادیا گیا ۔یہ الزام تھانہ صدر جھنگ کے قتل کے مقدمہ نمبری 983/25 کے ملزم خالد عباس کے بھائی بدر عباس

ہمارے بھائی کو قتل کرکے نعش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھیتوں میں پھینک دئیے گئے اور نعش کو ناقابل شناخت بنانے کے بعد مقتول کے خلاف ایک خاتون کے قتل کا مقدمہ درج کروادیا گیا ۔یہ الزام تھانہ صدر جھنگ کے قتل کے مقدمہ نمبری 983/25 کے ملزم خالد عباس کے بھائی بدر عباس اور دیگر اہل خانہ نے گزشتہ روز پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خالد عباس کی والدہ، بیوہ، چار کمسن بچے اور دیگر اہل خانہ موجود تھے۔ بدر عباس نے بتایا کہ 30جون کو کوٹ دیوان میں ان کی قریبی رشتہ دار فرزانہ بی بی کے قتل کا مقدمہ اس کے بھائی خالد عباس سمیت تین افراد کے خلاف تھانہ صدر جھنگ میں درج ہوا ۔ مذکورہ قتل کے 16روز بعد 16جولائی کو فرزانہ بی بی کے گھر کے قریب کھیتوں سے ایک ڈھانچہ نما لاش برآمد ہوئی جسے ٹکرے ٹکرے کر کے پھینکا گیا تھا ۔ بدر عباس کے مطابق برآمد ہونے والی لاش اس کے بھائی خالد عباس کی ہے جس کے قریب سے ملنے والے کپڑے، جوتی اور موبائل فون بھی اس کے بھائی خالد عباس کے ہیں جو اس کی بیوی اور دیگر اہل خانہ نے شناخت کر لئے ہیں۔ بدر عباس نے شبہ ظاہر کیا کہ فرزانہ بی بی کے قتل کے مقدمہ کے مدعی اور چند دیگر افراد نے خود فرزانہ بی بی اور اس کے بھائی خالد عباس کو قتل کیا اور فرزانہ بی بی کے قتل کا مقدمہ خالد عباس کے خلاف درج کروایا دیا اور کچھ روز بعد خالد عباس کی لاش پر تیزاب پھینک کر اسے ناقابل شناخت بنا کر ٹکڑے کر کے کھیتوں میں پھینک دی۔ بدر عباس کے مطابق اس مقدمہ میں مقامی پولیس مبینہ طور پر ملزمان سے ساز باز ہو چکی ہے ۔ پولیس کے مطابق برآمد ہونے والی لاش کے نمونے ڈی این اے کے لئے لاہور بھجوا دیئے گئے ہیں جبکہ لاش کو لاوارث قرار دے کر دفن کر دیا گیا ہے۔ ڈی این اے کی رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔ بدر عباس اور دیگر اہل خانہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے فرزانہ بی بی کے قتل کے مقدمہ کے مدعی سمیت دیگر افراد کو شامل تفتیش کیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos