انجمن پٹواریاں ضلع جھنگ کے عہدیداران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹواریوں کے دیرینہ مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، بصورتِ دیگر قلم چھوڑ ہڑتال کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انجمن پٹواریاں کے تحصیل صدر مہر عمر دراز بھٹی نے تحصیل دفتر میں میڈیا
انجمن پٹواریاں ضلع جھنگ کے عہدیداران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹواریوں کے دیرینہ مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، بصورتِ دیگر قلم چھوڑ ہڑتال کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انجمن پٹواریاں کے تحصیل صدر مہر عمر دراز بھٹی نے تحصیل دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر تنظیم کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
مہر عمر دراز بھٹی نے کہا کہ حکومت نے 2015 میں پٹواریوں کا سکیل 11 کرنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم آج تک اس حوالے سے باقاعدہ پالیسی نافذ نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جو کلرک پانچویں سکیل میں بھرتی ہوا تھا وہ آج گیارہویں سکیل تک پہنچ چکا ہے، جبکہ پٹواریوں کا سکیل تاحال جوں کا توں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر وعدے کے مطابق پے سکیل میں اضافہ کرے، ورنہ قلم چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف پٹواری کلچر ختم کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں جبکہ دوسری جانب سیلاب، سروے، قدرتی آفات کی رپورٹنگ، گرداوری، حد بندی اور دیگر تمام اہم ریونیو امور پٹواریوں کے ذریعے ہی انجام دیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پٹواریوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور آئے روز نئے قوانین بنا کر ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔
مہر عمر دراز بھٹی نے کہا کہ گرداور اور پٹواری ریونیو سسٹم کی شہ رگ ہیں اور ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹواریوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بند کیا جائے اور ان کے بنیادی حقوق فوری طور پر پورے کیے جائیں۔
اس موقع پر انجمن پٹواریاں کے ضلعی صدر رانا محبوب اور سیال ڈویژن کے صدر مظفر علی چچکانہ نے بھی سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور کمشنر فیصل آباد ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ پٹواریوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ہڑتال ختم ہو اور عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *