728 x 90

خوارج دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ڈی جی آئی ایس پی آر

خوارج دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ خوارج دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ خوارج دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ”بنیانِ مرصوص“ کی طرح متحد ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال برقرار نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی فرد یا گروہ کسی بھی وجہ سے خوارج کی مدد کر رہا ہے، اسے یا تو انہیں ریاست کے حوالے کرنا ہوگا، یا پھر دہشت گردی کے خاتمے میں ریاست کا ساتھ دینا ہوگا — بصورت دیگر ریاست کی طرف سے فیصلہ کن کارروائی کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاستِ پاکستان، اس کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی عوام کے تحفظ کے ضامن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی سلامتی کو کسی دوسرے ملک کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کے عوام کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے، بجائے اس کے کہ افغانستان سے سیکیورٹی کی بھیک مانگے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ مسلح افواج خیبرپختونخوا میں قانون اور آئین کے مطابق اندرونی سلامتی کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہداء ہماری عزت و فخر ہیں اور ان کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افغان حکام سے بارہا کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج اپنے عوام کی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر منفی اور جھوٹے بیانیے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مسلح افواج کی قربانیوں کا مذاق اڑانا سیاسی و جرائم پیشہ عناصر کے گٹھ جوڑ کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاستِ پاکستان، اس کی افواج اور ادارے کسی بھی سیاسی انتشار یا دباؤ سے متاثر نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان اور اس کے عوام کو کسی ایک ایسے شخص کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جو دہشت گردی کو دوبارہ پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا میں لانے کا ذمہ دار ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ سال 14,535 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے جن میں 769 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 577 افراد بشمول 272 پاک فوج کے افسران و جوان اور 110 پولیس اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال اب تک 10,115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن کے نتیجے میں 917 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 516 افراد بشمول 311 پاک فوج کے بہادر افسران و جوان اور 73 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آخر میں کہا کہ ریاستِ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی، اور شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos