خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے بیٹنی میں فتنہ الخوارج کی جانب سے کیے گئے بارودی مواد (آئی ای ڈی) کے حملے میں خیبر پختونخوا پولیس کے سات اہلکار شہید جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے تمام پولیس اہلکار ضلع لکی مروت سے
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے بیٹنی میں فتنہ الخوارج کی جانب سے کیے گئے بارودی مواد (آئی ای ڈی) کے حملے میں خیبر پختونخوا پولیس کے سات اہلکار شہید جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے تمام پولیس اہلکار ضلع لکی مروت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والوں میں ایس ایچ او تھانہ شادی خیل انسپکٹر صدر اعظم، کانسٹیبل شاہ بہرام، کانسٹیبل شاہ خالد، کانسٹیبل حاجی محمد، کانسٹیبل گلزادہ، کانسٹیبل سخی زادہ اور کانسٹیبل نامدار شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر اہلکاروں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھے۔ اس بزدلانہ حملے میں کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی پختونوں کو نشانہ بنا کر فتنہ الخوارج نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ انسانیت کا دشمن گروہ ہے۔
ذرائع کے مطابق لکی مروت میں ہونے والا یہ دہشت گرد حملہ افغانستان میں جاری پاک فوج کے آپریشن “غضب لِلحق” کی اہمیت اور ضرورت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ اس آپریشن کے تحت فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں گی اور دہشت گرد عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *