جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن شہباز گجر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنانے کے حوالے سے بلاوجہ بحث اور پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کو درپیش حقیقی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ
جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن شہباز گجر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنانے کے حوالے سے بلاوجہ بحث اور پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کو درپیش حقیقی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کے حوالے سے عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور معاشی و سیاسی استحصال سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے صوبوں کا معاملہ اچھالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکمران طبقہ اور سندھ اسمبلی و حکومت صوبوں کے معاملے پر ضرورت سے زیادہ ردعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
شہباز گجر ایڈووکیٹ نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر ملک میں نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، تاہم اس سے پہلے وفاق اور موجودہ صوبوں میں رائج ظالمانہ، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ معاشی، عدالتی و تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی لانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نظام کی بنیادی خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو نئے صوبوں کے قیام سے بھی عوام کے مسائل اور مشکلات کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے سیاسی و معاشی استحصال کے خاتمے اور مؤثر نظام کی تشکیل پر توجہ دینا ہوگی۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *